کاکروچ قائدین جیل میں… حکومت کا مستقبل قید میں
راہول اور Gen-Z متحد … مودی کی مقبولیت میں گراوٹ
رشیدالدین
’’جب جب مودی ڈرتے ہیں ، پولیس کو آگے کرتے ہیں‘‘ دہلی کی فضاؤں میں گونجنے والا یہ نعرہ آخرکار سچ ثابت ہوگیا۔ جنتر منتر پر 20 جولائی کو Gen-Z کی تحریک کے آغاز کے وقت مودی ۔امیت شاہ نے سوچا ہوگا کہ یہ تو بچے ہیں ، ان سے نمٹنا کوئی بڑی بات نہیں۔ ایک دن احتجاج کریں گے ، پھر تھک جائیں گے ، اس کے بعد پولیس کے ذریعہ منتشر کردیا جائے گا ۔ مخالف آوازوں کو کچلنے کا تجربہ رکھنے والے مودی اور امیت شاہ بے خوف ہوچکے تھے۔ پولیس کے ذریعہ احتجاجی طلبہ ، نوجوانوں پر ظلم ڈھایا گیا، مارپیٹ کی گئی ، اس یقین کے ساتھ کہ پولیس کا خوف Gen-Z کو دوبارہ سڑکوں پر نہیں لائے گا۔ جس دن پولیس کے ذریعہ ظلم ڈھایا گیا ، اس دن سے مودی ۔امیت شاہ کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد Gen-Z نے ووٹ چوری کے ذمہ دار گیانیش کمار کے خلاف مورچہ سنبھال لیا۔ راہول گاندھی کی زیر قیادت انڈیا اتحاد کی جمہوریت بچاؤ تحریک اور کاکروچ جنتا پارٹی کی مہم نے مودی حکومت کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ احتجاج سے نمٹنے کیلئے مودی حکومت نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کا جس طرح استعمال کیا اور طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئیں، اس سے صاف ظاہر ہے کہ جب کبھی خطرہ محسوس ہو ، حکومت نے پولیس کو آگے کردیا لیکن اب یہ تمام حربے بے اثر ثابت ہوچکے ہیں کیونکہ مخالف چوری تحریک سیلاب سے طوفان میں تبدیل ہوچکی ہے۔ تعلیمی اصلاحات اور امتحانی سسٹم کو درست کرنے کے مطالبہ کے ساتھ شروع ہوئی تحریک انتخابی سسٹم میں اصلاحات تک پہنچ چکی تھی لیکن مودی حکومت کے غلط فیصلوں نے حکومت کی تبدیلی کی تحریک میں تبدیل کردیا۔ متحدہ اپوزیشن اور Gen-Z آر پار کی لڑائی کیلئے کمربستہ ہوچکے ہیں۔ کوئی بھی حکومت جب دباؤ میں فیصلہ کرتی ہے تو اکثر غلطی کر بیٹھتی ہے۔ مودی اور امیت شاہ کے مشیروں نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔ حکومت نے جو غلطی کی ، اس نے راہول گاندھی کے ہاتھ مضبوط کردیئے اور دہلی دربار کا گیم پلٹ شروع ہوچکا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے سورو داس اور آسوتوش رنکا کو تہاڑ جیل بھیج کر مودی حکومت نے خود اپنا مستقبل قید کردیا ہے۔ جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کے جرم میں Gen-Z قائدین کو سنگین دفعات کے تحت تہاڑ جیل بھیج کر مودی حکومت نے اپوزیشن اور کاکروچ جنتا پارٹی کو متحد کردیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے کل تک ایک آزاد پریشر گروپ کے طور پر اپنی علحدہ شناخت کو برقرار رکھا تھا ۔ بی جے پی نے بھی کاکروچ اور کانگریس کو قریب ہونے سے روکنے کیلئے ہر طرح کی چالیں چلی لیکن آخرکار حکومت کا ایک غلط فیصلہ دونوں کو قریب لانے کا سبب بن گیا۔ راہول گاندھی نے کاکروچ جنتا پارٹی کی کھل کر تائید نہیں کی تھی لیکن سورو داس اور آسوتوش کو جیل بھیجتے ہی انہوں نے کاکروچ پارٹی کی تائید کردی۔ راہول گاندھی کا ٹوئیٹ جیسے ہی آیا ، ابھیجیت دپکے نے شکریہ ادا کیا۔ یہ طئے ہوگیا کہ راستے بھلے ہی مختلف ہوں لیکن منزل اور مقصود ایک ہی ہے ۔ Gen-Z کو سبق سکھانے اور طاقت کے ذریعہ آوازوں کو کچلنے کی کوشش نے مخالف ووٹ چوری تحریک میں نئی جان ڈال دی ہے اور خطرہ گیانیش کمار سے آگے بڑھ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔ مودی اور امیت شاہ جس صورتحال سے بچنا چاہتے تھے ، وہی ان کیلئے چیلنج بن چکی ہے۔ طاقت کے استعمال میں CJP کے ساتھ تمام طلبہ تنظیموں ، سیول سوسائیٹی اور جہدکاروں کو جوڑدیا ہے۔ خطرہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے ملک ووٹ چوری کے خلاف احتجاج کے ساتھ حکومت کی تانا شاہی کو دیکھ رہا ہے۔ عوامی تحریک اور خاص طور پر Gen-Z کی ناراضگی نے دنیا کے مقبول ترین وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی کی مقبولیت کو کم کردیا ہے ۔ سوشیل میڈیا پر راہول گاندھی کی مقبولیت نے میزائیل کی رفتار پکڑلی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یو ٹیوب پر راہول گاندھی کو دیکھنے والے 16 ملین ہوگئے جبکہ نریندر مودی کو 3.8 ملین افراد دیکھ رہے ہیں۔ انسٹگرام پر راہول گاندھی کے فالورس 17.7 ملین ہوگئے جبکہ مودی کے 9.7 ملین ہیں۔ فیس بک پر راہول گاندھی کی رسائی 10 فیصد ہے جبکہ نریندر مودی کی 1.8 فیصد ہے۔ یو ٹیوب پر کانگریس کو دیکھنے والے 83.4 ملین تک پہنچ گئے ہیں جبکہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بی جے پی کی سرگرمیوں کا 4.3 ملین افراد مشاہدہ کر رہے ہیں۔ انسٹگرام پر کانگریس 26.4 ملین تک رسائی حاصل کرچکی ہے جبکہ بی جے پی 4.2 ملین تک محدود ہوچکی ہے۔ سوشیل میڈیا پر نوجوانوں میں راہول گاندھی اور کانگریس کی بڑھتی مقبولیت مودی حکومت اور بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔
ووٹ چوری احتجاج سے حکومت میں پیدا شدہ بحران سے نمٹنے کیلئے امیت شاہ نے آخرکار کمان سنبھال لی ہے۔ نریندر مودی وزیراعظم ضرور ہیں لیکن بیورو کریسی اور پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امیت شاہ کے اشارہ پر کام کریں۔ بحران کو حل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے امیت شاہ بھی بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں میں ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ایک طرف سنگھ پریوار تو دوسری طرف بی جے پی اور تیسری جانب سے حکومت نے سر جوڑ کر بیٹھک کرتے ہوئے بحران سے نمٹنے کی راہ تلاش کی جارہی ہو ۔ ہر کسی کو اس بات کی فکر ہے کہ Gen-Z اور انڈیا اتحاد کا اگلا قدم کیا ہوگا اور اسے کس طرح روکا جائے۔ 2029 عام انتخابات کے بارے میں بی جے پی فکرمند ہے کیونکہ 2019 کے مقابلہ 2024 میں بی جے پی کی نشستوں کی تعداد گھٹ چکی ہے۔ موجودہ صورتحال میں چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی بیساکھیاں حکومت کا سہارا ہیں۔ عوامی ناراضگی بڑھنے پر اگر یہ دونوں ساتھ چھوڑدیں تو پھر 2029 میں اقتدار کی تبدیلی یقینی ہوجائے گی۔ جہاں تک ووٹ فیصد کا معاملہ ہے ، بی جے پی اور کانگریس میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ آئندہ عام انتخابات میں Gen-Z فیصلہ کن موقف میں رہیں گے اور ان کا جھکاؤ جس طرف ہوگا ، وہی لال قلعہ پر ترنگا لہرا سکتا ہے ۔ راہول گاندھی نے یہ کہتے ہوئے مودی حکومت کی نیند حرام کردی ہے کہ 200 سے زائد بیرو کریٹس ان سے ربط میں ہیں۔ راہول گاندھی نے اقتدار کی تبدیلی کے بعد پولیس عہدیداروں کو قانون کے مطابق سزا دینے کی دھمکی دیتے ہوئے ایڈمنسٹریشن میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مودی حکومت کے غرور نے Gen-Z کو اپوزیشن کے قریب کردیا ہے ۔ اگر ووٹ چوری کے خلاف تحریک گاؤں گاؤں تک پہنچ جائے تو حکومت کا زوال یقینی ہو جائے گا۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کب تک گیانیش کمار کی کرسی بچ پائے گی۔ کب تک مودی حکومت عوام کو سڑکوں پر آنے سے روکے گی۔ کتنے لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا اور کتنے لوگوں کو جیل بھیجا جائے گا۔ ملک کا مزاج بدل چکا ہے اور Gen-Z میں یہ احساس جاگنے لگا ہے کہ ملک کی تعمیر اور ترقی میں ان کا کچھ نہ کچھ حصہ ہونا چاہئے۔ دوسری طرف اتراکھنڈ کے ایک متنازعہ بی جے پی لیڈر دشنت کمار گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کئے جانے پر اپوزیشن نے ناراضگی جتائی ہے۔ 2022 میں اتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری نامی لڑکی کے قتل معاملہ میں پس پردہ جس شخص کا نام آرہا تھا ، وہ دشنت کمار گوتم ہے۔ انکیتا بھنڈاری کے والدین نے دہلی میں انڈیا گیٹ پر احتجاج کرتے ہوئے صدر جمہوریہ سے فیصلہ واپس لینے کی اپیل کی۔ راہول اور پرینکا نے مقتول لڑکی کے والدین سے ملاقات کرتے ہوئے اظہار یگانگت کیا۔ گزشتہ چار برسوں سے یہ خاندان انصاف کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قتل میں جن تین بی جے پی قائدین کو گرفتار کیا گیا ، انہوں نے مقتول لڑکی کو دشنت کمار کو خوش کرنے کی ترغیب دی تھی لیکن لڑکی نے انکار کردیا۔ قتل کے پس پردہ جس VIP کا نام آرہا تھا، وہ دشنت کمار ہیں لیکن تحقیقات میں پولیس نے انہیں بچالیا۔ ظاہر ہے کہ گجرات میں بلقیس بانو کے بلاتکاریوں کو سزا معاف کرنے والی بی جے پی حکومت سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ انکیتا بھنڈاری کے خاندان کو انصاف ملے گا۔ مخالف ووٹ چوری تحریک میں عمران پرتاپ گڑھی کا یہ شعر کافی مقبول ہوا ہے ؎
نعرہ لگارہے ہیں سبھی زور و شور سے
سیلاب کہاں رکتا ہے لاٹھی کے زور سے