سیوا دل کے قیام کی صدی تقاریب، مہیش کمار گوڑ، دیپا داس منشی اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد۔/20 نومبر، ( سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کمیٹی سیوا دل کی یوم تاسیس صدی تقاریب کا گاندھی بھون میں انعقاد عمل میں آیا۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، سابق ارکان پارلیمنٹ وی ہنمنت راؤ، مدھو یاشکی گوڑ اور دیگر قائدین نے حصہ لیا۔ ملک بھر میں سیوا دل کی سرگرمیوں کو پارٹی کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کانگریس قائدین نے سیوا دل سے وابستہ قائدین کو سرکاری عہدوں میں مناسب نمائندگی دینے کی تجویز پیش کی۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے تیقن دیا کہ گذشتہ 15 برسوں سے سیوا دل میں خدمات انجام دینے والے قائدین اور کارکنوں کو نامزد عہدوں پر فائز کیا جائے گا۔ کارپوریشنوں کے صدورنشین کے علاوہ سرکاری اداروں میں ڈائرکٹرس کے عہدوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیوا دل کے قائدین اور کارکنوں کی فہرست چیف منسٹر ریونت ریڈ ی کو پیش کریں گے۔ مہیش کمار گوڑ نے بتایا کہ مجالس مقامی کے مجوزہ انتخابات میں ایم پی ٹی سی ، زیڈ پی ٹی سی اور دیگر عہدوں میں سیوا دل کو نمائندگی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں ملحقہ تنظیموں کی انفرادیت برقرار ہے۔ کانگریس پارٹی میں سیوا دل کے قیام کا مقصد پارٹی کے پروگراموں کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سطح سے سیوا دل کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی عوام کی بھلائی اور ریاست کی ترقی کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں۔ انتخابی وعدہ کے مطابق کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک قرض کی معافی کے سلسلہ میں 18 ہزار کروڑ جاری کئے گئے۔ کے سی آر کی حکومت نے دس سال میں جو نہیں کیا کانگریس نے ایک سال میں کردکھایا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں تلنگانہ ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں طئے کرے گا۔ وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ سیوا دل کے 100 سال کی تکمیل پر دیرینہ وابستگی رکھنے والے قائدین کو اعزازات پیش کئے جانے چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آر ایس ایس کا مقابلہ کرنے میں سیوا دل نے اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیوا دل کے ہر کارکن کو کانگریس کے استحکام کیلئے جدوجہد کرنی چاہیئے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں دس سال تک کانگریس حکومت برسراقتدار رہے گی۔حکومت کے مشیر ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور دیگر قائدین نے بھی مخاطب کیا۔1