سیڈیشن معاملہ: صحافی ونود دوا کی گرفتاری پر سپریم کورٹ کی عبوری راحت‘ جانچ سے کیاانکار

,

   

جسٹس یو یو للت‘ ایم ایم شانتانا گودھر اور ونت سرن پر مشتمل ایک بنچ نے آج خصوصی سنوائی کے دوران تحقیقات پر روک لگانے سے انکار کردیا مگر ہماچل پردیش پولیس سے استفسار کیاکہ تحقیقات سے 24گھنٹے قبل ممتا صحافی ونودکو اس کی جانکاری دیں

نئی دہلی۔ شملہ کے ایک بی جے پی لیڈر کی جانب سے ان کے یوٹیوب شو پر شکایت کے ضمن میں درج سیڈیشن معاملے پر اتوار کے روز مذکورہ سپریم کورٹ نے صحافی ونود دواء کی گرفتاری پرعبوری تحفظ فراہم کیاہے۔

جسٹس یو یو للت‘ ایم ایم شانتانا گودھر اور ونت سرن پر مشتمل ایک بنچ نے آج خصوصی سنوائی کے دوران تحقیقات پر روک لگانے سے انکار کردیا مگر ہماچل پردیش پولیس سے استفسار کیاکہ تحقیقات سے 24گھنٹے قبل ممتا صحافی ونودکو اس کی جانکاری دیں۔

ایسے وقت میں سپریم کورٹ کے احکامات سامنے ائے ہیں جب مذکورہ سیڈیشن معاملے کو برخواست کرنے کے متعلق دواء نے عدالت میں ایک درخواست پیش کی ہے۔

پچھلے ماہ بی جے پی کے مہاسو یونٹ کے صدر اجئے شیام کی جانب سے شکایت کی بنیاد پر دواء کے خلاف ائی پی سی کی دفعہ 124اے‘ 268‘501اور505کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

مذکورہ بی جے پی لیڈر کا دعوی ہے کہ 30مارچ کے روز اپنے 15منٹ کے شو میں دوا نے عجیب الزامات لگائے ہیں۔شکایت کردہ نے صحافی پر الزام لگایا ہے کہ مبینہ طور پر انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی ووٹ حاصل کرنے کے لئے ”موات او ردہشت گردی“ کے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔

مقامی بی جے پی لیڈر کی جانب سے شکایت پر درج سیڈیشن معاملے میں پوچھ تاچھ کے لئے مذکورہ شملہ پولیس نے صحافی کو سمن جاری کیاتھا۔جمعہ کی صبح شملہ پولیس کے جوان دہلی میں ان کے مکان نوٹس کی سربراہی کے لئے بھی گئے تھے۔

نوٹس کے جواب میں دوا نے اپنی صحت اور کویڈ19پروٹوکال برائے سفر اور قرنطین کا حوالہ دیتے ہوئے کمارسین پولیس اسٹیشن کو رجوع ہونے سے انکار کردیاتھا۔

مذکورہ بی جے پی لیڈر کا الزام ہے کہ دواحکومت اور وزیراعظم کے خلاف فرضی او رمن گھڑت خبروں کے ذریعہ تشدد کے لئے اکسانے کاکام کررہے ہیں۔

اس سے قبل بھی دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی کے ترجمان نوین کمار کی جانب سے مذکورہ صحافی پر ”دہلی فسادات پر غلط انداز میں رپورٹنگ“ اور جیوترا6789دتیہ سندھیا کے بی جے پی میں شمولیت پر ”من گھڑت رپورٹنگ“ اور ان کے ”ویاپم اسکام“ پر تبصرے کے خلاف کی گئی شکایت کے معاملے میں جانچ پر روک لگائی ہے