دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کا تیقن بھی مشکوک ۔ مساجد کی تعمیر تک چیف منسٹر ملاقات نہ کرنے کا عہد۔ علماء اکرام کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔امت کیلئے شرمندہ کرنے والے مسائل پر علماء اکرام کو میدان میں آنا ضروری ہے اور علماء اکرام اب مسجد کی شہادت کے مسئلہ پر میدان میں آنے تیار ہیں۔ علمامساجد کی شہادت کے معاملہ میں فکر مند ہیں ۔ سیاسی فیصلہ یا فکر سیاستدانوں کا کام ہے لیکن مذہب اسلام میں مساجد کو کافی اہمیت حاصل ہے اسی لئے مساجد ہماری جانو ںسے زیادہ عزیز ہیں۔ مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری نے آج دیگر علماء اکرام کے ہمراہ منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا اور چیف منسٹر سے دریافت کیا کہ آپ سیکولر ‘ جمہوریت پسند چیف منسٹر ہیں یا آپ کی پارٹی سیکولر اور تنگ نظر ہے! مسجد سیکریٹریٹ کی ہویا کسی اور علاقہ کی ہو مسجد مسلمانوں کیلئے جان سے عزیز ہوتی ہے اور مسجد نام در و دیوارکا نہیں ہوتا بلکہ جن مقامات پر سجدہ کیا جاتا ہے وہ ہوتی ہے۔ انہو ںنے واضح کیا کہ مسجد کی تعمیر سے زیادہ مسجد کی جگہ مطلوب ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ سیکریٹریٹ میں موجود دونوں مساجد کو ان کی اپنی جگہ پر تعمیر کیا جائے کسی اور مقام پر مسجد کی تعمیر کو قبول نہیں کیاجائے گا۔اس پریس کانفرنس میں مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم ‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ‘الشیخ عبدالرحیم خرم جامعی کے علاوہ دیگر علمائے اکرام موجود تھے۔مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری نے اس پریس کانفرنس کے دوران مساجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کے سلسلہ میں حکومت کے تیقن پرشبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت سے سال 2019 میں سابق قائد اپوزیشن جناب محمد علی شبیر نے استفسار کیا تھا کہ جب آپ سیکریٹریٹ کی عمارتوں کو منہدم کریں گے تو مساجد کے سلسلہ میں کیا موقف ہوگا۔
انہوں نے جناب محمد علی شبیر کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو روانہ کئے گئے اس مکتوب کا کوئی جواب اب تک نہیں دیا گیا جس سے حکومت کی نیت ابتداء سے ہی مشتبہ رہی ہے۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہ علماء اکرام اس وقت تک چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات نہیں کریں گے جب تک سیکریٹریٹ میں شہید کی گئی دونوں مساجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر نہیں ہوجاتی۔مولانا جعفر پاشاہ ان سے کئے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے۔انہوں نے واضح کیا کہ مسجد کے انہدام کے سلسلہ میں تلنگانہ راشٹرسمیتی پر عوام کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کسی بھی عالم دین یا ذمہ دار سے مساجد کی شہادت کے متعلق مشورہ نہیں کیا گیا اور اگر کیا جاتا تو کسی بھی گوشہ سے اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے نرسمہا راؤ کی صدی تقاریب کے منائے جانے کا اعلان انتہائی تکلیف دہ ہے ان حالات میں جبکہ ریاست ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں معاشی بحران کی صورتحال ہے ایسے میں ایک ناپسندیدہ شخص کی صدی تقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ الشیخ عبدالرحیم خرم جامعی نے ریاستی حکومت پر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نہ صرف مسجد کی شہادت بلکہ قرآن مجید کی کی بے حرمتی کی مرتکب ہوئی ہے اور اس کے برخلاف سیکریٹریٹ کے احاطہ میں موجود ایک اور مذہبی ڈھانچہ کو ہٹانے کیلئے اس مذہب کے ماننے والوں کے ذریعہ مورتیوں کو ہٹانے کے علاوہ اہم اشیاء کو ہٹانے کے اقدامات کئے گئے جبکہ مسجد کی شہادت سے قبل نہ ہی قرآن مجید کو ہٹایا گیا اور نہ ہی جائے نمازوں کو ہٹایا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں موجود علماء اکرام نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے دروغ گوئی سے کام لیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ انہدام کے دوران مساجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مساجد کو باضابطہ شہید کیا جاچکا ہے۔