آن اسکرین مارکس سسٹم کے حصول کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل ۔ ایس رادھا چوہان کو ذمہ داری
نئی دہلی 2 جون ( ایجنسیز ) مرکزی حکومت نے حرکت میں آتے ہوئے سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن ( سی بی ایس ای ) کے صدر نشین اور سکریٹری کا تبادلہ کردیا ہے ۔ یہ کارروائی بورڈ کی جانب سے آن اسکرین مارکنگ ( او ایس ایم ) سسٹم پر پیدا ہوئے تنازعہ کے دوران عمل میں لایا گیا ہے ۔ ایک سرکاری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سی بی ایس ای کے صدر نشین راہول سنگھ اور سکریٹری ہیمانشو گپتا کا تبادلہ کردیا گیا ہے جبکہ ایک اعلی سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو او ایس ایم سہولت کے حصول کے تعلق سے تحقیقات انجام دے گی ۔ کیپاسٹی بلڈنگ کمیشن ( سی بی سی ) کے صدر نشین ایس رادھا چوہان کو اس تحقیقاتی کمیٹی کی واحد رکن بنایا گیا ہے تاہم وہ دوسرے عہدیداروں سے بھی ضرورت پڑنے پر مدد حاصل کرسکتی ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر نشین کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دوسرے دفاتر کے عہدیداروں کی خدمات بھی ضرورت پڑنے پر حاصل کرسکتی ہیں۔ سکریٹری سطح کی مدد کمیٹی کو فراہم کی جائے گی ۔ یہ کمیٹی اندرون ایک ماہ اپنی رپورٹ محکمہ پرسونل و ٹریننگ کو پیش کرے گی ۔ حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سی بی ایس ای کی جانب سے ری ۔ ویریفیکیشن پورٹل کو بارہویں جماعت کے طلباء کیلئے کارکرد بنادیا گیا ہے ۔ چند گھنٹوں بعد تاہم بورڈ نے اطلاع دی کہ اس پلیٹ فارم کو نشانہ بنانے سائبر حملے کئے گئے ہیں۔ سی بی ایس ای کے مطابق اس پورٹل پر تقریبا پندرہ لاکھ ہٹس اندرون دو منٹ آئے ہیں ۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ کوشش در اصل طلباء کو پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے کیلئے کی گئی تھی ۔ یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد کوششیں کی گئیں تاکہ فائیلس تک غیرمجاز رسائی حاصل کی جاسکے ۔ یہ در اصل ان خدمات میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ یہ پورٹل اپنے شیڈول سے ایک دن بعد کارکرد بنایا گیا ہے اور عہدیداروں نے ٹکنیکل مسائل کو اس کی وجہ قرار دیا تھا ۔ اس التواء کی وجہ سے طلباء اور ان کے والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی ۔ سی بی ایس ای نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ اس پلیٹ فارم پر شفاف انداز میں اور کسی رکاوٹ کے بغیر کام ہوگا اور طلباء جو اپنے نشانات کی دوبارہ جانچ کروانا چاہتے ہیں وہ اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔