سی پی آئی نے منگوڑ میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا

   

سی پی ایم کا جھکاؤ بھی ٹی آر ایس کی طرف، کانگریس نے دھوکہ دیا، چاڈا وینکٹ ریڈی کا الزام

حیدرآباد ۔ 20 اگست (سیاست نیوز) سی پی آئی نے اسمبلی حلقہ منگوڑ میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سی پی ایم کا بھی جھکاؤ حکمران ٹی آر ایس کی طرف نظر آرہا ہے۔ کل شام پرگتی بھون میں سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی اور پارٹی کے دوسرے قائدین نے دو گھنٹوں تک چیف منسٹر سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تلنگانہ سی پی آئی کے سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کو صرف ٹی آر ایس شکست دے سکتی ہے اس لئے سی پی آئی نے منگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی قومی عاملہ کے اجلاس میں بی جے پی کو شکست دینے کی قرارداد منظور ہوئی ہے۔ اس لئے ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ منگوڑ تک محدود نہیں ہے مستقبل میں بھی سی پی آئی ٹی آر ایس کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ ملک بھر میں بی جے پی کو شکست دینے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ہمیں آج منعقد ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔ سی پی آئی کے قائدین جلسہ عام میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2018ء میں ہم نے کانگریس سے اتحاد کیا تھا تب کانگریس نے ہمیں بہت زیادہ پریشان کیا تھا۔ ہمیں مختص کئے گئے تین اسمبلی حلقوں پر کانگریس پارٹی کے امیدواروں نے مقابلہ کیا تھا۔ سی پی ایم کے ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ وہ بھی ٹی آر ایس کی تائید کرنے پر غور کررہی ہے۔ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں۔کانگریس کی تائید کرنے کی صورت میں ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ اسی لئے سی پی ایم بھی ٹی آر ایس کی تائید کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ن