سی پی ایم نے منگوڑ میں ٹی آر ایس کی تائید کا سرکاری طور پر اعلان کیا

   


تائید صرف منگوڑ تک محدود رہے گی ، سی پی ایم عوامی مسائل پر حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھے گی
حیدرآباد ۔ یکم ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : سی پی ایم پارٹی نے اسمبلی حلقہ منگوڑ ضمنی انتخابات میں حکمران ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا سرکاری طور پر اعلان کیا ہے ۔ تلنگانہ سی پی ایم کے سکریٹری ٹی ویرا بھدرم نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ منگوڑ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخابات میں تائید کرنے کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اپیل کی ہے ۔ تاہم پارٹی نے بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر بی جے پی میں شامل ہونے والے کومٹ ریڈی راجگوپال کی جانب سے ترقی کے لیے استعفیٰ دینے والے دعویٰ کو ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے کیوں استعفیٰ دیا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس کی وضاحت کردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منگوڑ کے ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور کانگریس میں ہے ۔ لیکن بی جے پی کی جانب سے منظم سازش تیار کرتے ہوئے اس کو بی جے پی اور ٹی آر ایس کے درمیان اصل مقابلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ٹی ویرا بھدرم نے کہا کہ منگوڑ میں کانگریس کا موقف مضبوط ہے ۔ مگر وہ نتائج میں تیسرے مقام پر پھسل جانے کی پیش قیاسی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ایم نے ہمیشہ فرقہ پرست بی جے پی کے خلاف محاذ کی تیاری میں یقین رکھتی ہے ۔ منگوڑ کی ذہنی حقائق کا بغور جائزہ لینے اور مقامی سی پی ایم کیڈر کی رائے حاصل کرنے کے بعد سی پی ایم نے بی جے پی کو شکست دینے کے لیے حکمران ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹی ویرا بھدرم نے سی پی آئی کی جانب سے ٹی آر ایس کی تائید کرنے کے فیصلہ پر دعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں کمیونسٹ جماعتوں کی ٹی آر ایس کو تائید کرنے کے فیصلے میں فرق ہے ۔ ہماری ٹی آر ایس کو تائید صرف اسمبلی حلقہ منگوڑ ضمنی انتخابات تک محدود ہے ۔ ٹی ویرا بھدرم نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے سیکولر نظریات کے حامل سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ یہ انتخابات کے بعد ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منگوڑ میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے کے باوجود سی پی ایم حکومت کے خلاف عوامی مسائل پر احتجاج کو جاری رکھیں گی ۔۔ ن