سیاست اور ملت فنڈ کا رشتوں کا دو بہ دو پروگرام، حافظ محمد ابراہیم حسامی اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 14 جون (سیاست نیوز) مسلم گھرانوں کے لڑکوں اور لڑکیوں کو اچھے اور بہتر گھرانوں میں شادیوں کیلئے رشتوں کا دو بہ دو پروگرام سیاست اور ملت فنڈ کے زیراہتمام ریڈروز فنکشن ہال نزد حج ہاؤز میں آج منعقد ہوا۔ شرکاء نے انتظامیہ بالخصوص جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور جناب عامر علی خان نیوزایڈیٹر روزنامہ سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خان مرحوم کے فرزندان جناب اصغر علی خان، جناب فخر علی خان سے والدین نے ملاقات کرتے ہوئے 150 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام کے ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ حافظ محمد ابراہیم حسامی نے والدین پر زور دیا کہ شادیوں کی انجام دہی میں اسلامی طرز نکاح کو ہمیشہ نظر میں رکھیں جس سے بہت سارے فوائد انسانی زندگی میں حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پرآشوب دور میں ایک نیک اور صالح بیوی کا ملنا بڑی مشکل ہے جو ایک نعمت سے کم نہیں۔ اس لئے ضروری ہیکہ جب کسی گھر میں لڑکا اور لڑکی کیلئے شادی کا ارادہ کریں تو والدین کو اول اس بات پر مدنظر رکھنی چاہئے کہ لڑکا ہو یا لڑکی اسلامی مزاج اور اسلامی گھرانے کے ہوں ایسے ہی لڑکا اور لڑکی کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو گھرانے اسلامی طرز و طریق پر اپنی زندگی گزاریں گے انہیں آگے چل کر کوئی مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔ اس لئے یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ بغیر جہیز و لین دین کی شادی ہو اور اسراف اور فضول خرچی سے اپنے آپ کو دور رکھا جائے گا۔ انہوںنے جناب زاہد علی خان ، جناب ظہیرالدین علی خان مرحوم اور جناب عامر علی خان کی کوششوں و کاوشوں کی سراہنا کی جس کی وجہ سے آج یہ پروگرام اقطاع عالم خصوصیت کے ساتھ مغربی ممالک میں اپنا اثر چھوڑ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح کے بعد اپنی زندگی کو کامیاب و کامران بنانے کے پہل کی جائے۔ ڈاکٹر ناظم علی نے کہا کہ مسلم معاشرہ جب نکاح کے تقدس کو باقی و برقرار رکھے گا تو اس کو دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شادی کو اسلامی نقطہ نظر سے کیا جائے تاکہ اس کے ذریعہ سنت کا یہ اہم پہلو پائے تکمیل کو پہنچ سکے۔ اگر شادی کو مالی مفادات کا ذریعہ بنایا جائے گا تو معاشرہ میں بناؤ پیدا ہونے کے بجائے بگاڑ کی صورتحال پیدا ہوگی۔ جناب حیات حسین حبیب نے سیاست اور ملت فنڈ کے تعاون سے ہونے والے پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے انتظامیہ بالخصوص جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست، جناب عامر علی خان نیوزایڈیٹر روزنامہ سیاست اور دوسروں کو مبارکباد پیش کی کہ جن کے تعاون سے ملت اسلامیہ کا ایک اہم مسئلہ کا حل پیدا ہوا ہے۔ جناب صالح بن عبداللہ باحاذق نے مہمانان اور والدین و سرپرستوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ شادیوں کے ضمن میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام آج 150 ویں منزل پر اپنے قدم جما چکا ہے ۔ شہ نشین پر جناب شاہد حسین اور محمد احمد غلام محی الدین فاروق اور مہمان مقررین موجود تھے۔ آج کے اس پروگرام میں والدین نے آغاز سے ہی اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے فوٹوز اور بائیو ڈاٹاس رجسٹریشن کروائے اور سابق پروگرام کی طرح والدین کی سہولت کیلئے ایس ایس سی، انٹرمیڈیٹ، گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، ٹکنیکل، حافظ و عالم، ایم بی بی ایس، ایم ایس، بی اے، بی کام، بی ایس سی، عقدثانی اور تاخیر سے ہونے والے لڑکا اور لڑکی کیلئے علحدہ علحدہ کاؤنٹرس قائم کئے گئے تھے جہاں پر والدین پہنچ کر بات چیت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس کے علاوہ انجینئرنگ کاؤنٹر کے ذریعہ ایک اوپن کاؤنٹر بھی رکھا گیا جس میں لڑکے کے بائیو ڈاٹا اور فوٹو کو اسکرین پر ڈالا گیا۔ اس کاؤنٹر کے ذریعہ ایسے لڑکے جو بیرونی ممالک اور اندرون ملک برسرروزگار کمپنیوں، آئی ٹی کمپنیوں میں ہیں، ان کے والدین سے ملاقات کرتے ہوئے مشاورت کی۔ اس کے علاوہ کمپیوٹرس کی مدد سے بھی والدین کو لڑکوں کو دیکھنے کی سہولت مہیا کی گئی اور آن لائن سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے والدین آن لائن رجسٹریشن بھی کروایا۔ پروگرام کو دونوں شرہوں، تلنگانہ کے اضلاع، ملک کی تمام ریاستوں اور بیرونی ممالک امریکہ، کینیڈا، آفریقہ، آسٹریلیا، سعودی عرب، دوحہ قطر، دوبئی، ابوظہبی کے ساتھ دیگر ممالک میں مقیم حیدرآبادیوں کو رشتوں کے ضمن میں ویب سائیٹ کے ذریعہ نشر کی سہولت رکھی گئی جس کو کئی ناظرین نے دیکھا اور انتظامیہ کو مبارکباد دی۔ جناب خالد محی الدین اسد کوآرڈینیٹر پروگرام نے مالکین شادی خانہ اور دوسروں کا شکریہ ادا کیا۔ 5 بجے شام دو بہ دو پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔ جناب حیات حسین حبیب نے جناب اصغر علی خان کو گلدستہ پیش کیا۔