کیف؍لندن۔ روسی طویل فاصلے تک مار کرنے والے طیاروں نے یوکرین کے مرکزی شہر کریمین چک میں میزائل سے ایک پرْہجوم شاپنگ مال کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو یوروپین تاریخ کا سب سے بے خوف دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہزار سے زیادہ شہری شاپنگ مال کے اندر موجود تھے جن میں سے بہت سے جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ یوکرین کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کو نیویارک میں اس حملے پر بحث کیلئے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے۔میزائل حملے کا واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب مغربی رہنماؤں نے یوکرین کیلئے حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا اور دنیا کی بڑی معیشتوں نے روس پر نئی پابندیاں لگانے کی تیاری کی۔ ان پابندیوں میں تیل کی قیمت کی حد اور اشیا پر زیادہ محصولات شامل ہیں۔ دریں اثنا، امریکہ زیلنسکی کے مزید فضائی دفاعی نظام کے مطالبے پر رضامند نظر آرہا ہے۔ یوکرائنی حکام کے مطابق روس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں نے میزائل فائر کیا جس نے کریمین چْک میں شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنایا اور ساتھ ہی ایک اور میزائل داغا جو کھیلوں کے میدان میں گرا۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے شائستگی اور انسانیت کی امید رکھنا بیکار ہے۔