مخالف تلنگانہ پارٹی کا انتخاب: ملو روی
حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے سابق وزیر ایم ششی دھر ریڈی کے پارٹی سے استعفی اور بی جے پی میں شمولیت کے اعلان کا مذاق اڑایا اور کہا کہ ششی دھر ریڈی ایسی پارٹی میں شامل ہورہے ہیں جس نے گذشتہ آٹھ برسوں میں تلنگانہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی ہے۔ نائب صدر ڈاکٹر ملو روی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ششی دھر ریڈی تلنگانہ اور تلنگانہ عوام کیلئے بی جے پی میں شمولیت کا دعویٰ کررہے ہیں۔ تلنگانہ کیلئے بی جے پی نے گذشتہ آٹھ برسوں میں کیا قدم اٹھائے اس کی وضاحت کی جائے۔ گذشتہ آٹھ برسوں میں مرکزی حکومت نے تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ بیارم میں اسٹیل پلانٹ، قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری، گریجن یونیورسٹی کا قیام، آئی آئی ایم اور آئی ٹی آئی آر کے قیام کیلئے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ ایسی پارٹی میں شمولیت کے ذریعہ ششی دھر ریڈی کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے تلنگانہ تشکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ جس پارٹی نے سیاسی جنم دیا ہے اسی پارٹی کو خیرباد کہنا دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہی ان کے والد ڈاکٹر ایم چنا ریڈی کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔ر