شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ میں اساتذہ کے تقررات کا تیقن: پروفیسر ڈی رویندر

   


یونیورسٹی کی اردو شناخت کو بحال کرنے پر زور: پروفیسر ایس اے شکور و دیگر کا سمینار سے خطاب

حیدرآباد۔ 22 ڈسمبر ( پریس نوٹ) شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ کے زیر اہتمام ایک روزہ بین الاقوامی سمینار بعنوان’’اردو ادب میں انسانی اقدار و مساوات‘‘ کا افتتاحی اجلاس بروز پیر 10بجے دن یونیورسٹی کالج آف آرٹس اینڈ سوشیل سائنسس، عثمانیہ یونیورسٹی بدست پروفیسر ڈی۔رویندر، وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی عمل میںآیا۔اس سمینار کی صدارت پروفیسر سی۔گنیش، صدر شعبۂ اردو و پرنسپل یونیورسٹی کالج آف آرٹس اینڈ سوشیل سائنسس ، جامعہ عثمانیہ نے کی۔ڈاکٹر انجم النسا (زیبا) نے مہمانانِ خصوصی پروفیسر یوسف عامر، سابق وائس چانسلر، الازہر یونیورسٹی ،مصر، ڈاکٹر سراج الدین متوف(ازبکستان) اور خصوصی مدعوئین پروفیسر ایس۔اے۔ شکور وڈاکٹر ایم ۔ اے ۔ معید (جاوید) سابق صدور، شعبۂ اردو جامعہ عثمانیہ اور شرکائے محفل کا خیرمقدم کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈی۔ رویندر نے شعبۂ اردو کی جانب سے بین الاقوامی سمینار منعقد کرنے پر شعبۂ اردو کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی نظام حیدرآباد کی علمی دانشوری کی اعلیٰ مثال ہے جس کا قیام 1917عیسوی میں عمل میں آیا۔انہوںنے یونیورسٹی کے بانی میر عثمان علی خان کے اس فرمان کا حوالہ دیا جس کے تحت اس یونیورسٹی کا قیام علم میں لایا گیا تھا۔پروفیسر ڈی۔رویندر نے کہا کہ آج قومی و بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی اپنے اعلیٰ معیارات کے سبب مقبول ہے۔ یونیورسٹی کے دیگر شعبوں کی طرح اردو میں بھی مستقل اساتذہ نہ ہونے کاتذکرہ کرتے ہوئے تیقن دیا کہ بہت جلد حکومت کی رہنمایانہ خطوط کی روشنی میں شعبۂ اردو کے بشمول یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں بڑے پیمانے پر مستقل تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔پروفیسر ڈی۔رویندر نے مصر اور ازبکستان سے آئے مہمانوں کا خیر مقدم کیااور پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین سے اظہارِ تشکر کیا۔ پروفیسر ایس۔اے۔شکور، سابق صدر شعبۂ اردو جامعہ عثمانیہ نے کہا کہ اس سمینار کے لئے جس موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے اس کی ضرورت عالمی اور ہندوستان کی سطح پربھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ تلنگانہ نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے۔عثمانیہ یونیورسٹی کی ابتدا اردو زبان میں ہی ہوئی۔ایک مرتبہ پھر اس جامعہ کی اردو شناخت کو بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شعبۂ اردو میں ایک زمانے میں 16مستقل اساتذہ ہوا کرتے تھے۔اساتذہ کی وظیفہ پر سبکدوشی کے بعداب ایک بھی مستقل لکچرر نہیں ہیں جس کی جانب یونیورسٹی حکام کو توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ شعبۂ اردو کی عظمت رفتہ کو بحال کیجاسکے۔اس بین الاقوامی سمینار کے مہمانِ اعزازی پروفیسر یوسف عامر سابق وائس چانسلر جامہ الازہر نے کہا کہ ’’میںاپنے گھر ہی آیا ہوں۔مصر اور ہندوستان قدیم تہذیبوں اور ثقافتوں کا سنگم ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا اردو زبان ہندوستان کی مٹی سے بنی ہے۔ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔اردو زبان ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو ساری دنیا میں عام کر رہی ہے۔ ازبکستان سے آئے ایک اور مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سراج الدین متوف نے کہا تاشقند کے شعبہ اردو میں اردو پڑھائی جاتی ہے۔پروفیسر قمر رئیس نے فروغ اردو کے لئے اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان میں موجود انسانی اقدارکے سرمائے کو نئی نسل تک پہنچایا جائے۔ کلیدی خطبہ پروفیسر محمد خواجہ اکرام الدین ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی نے پیش کیا۔ انہوں نے کہا جس نے اردو سیکھا اس نے ہندوستان کو سمجھا۔زبان کا تعلق معاش سے بالکل نہیں ہے۔ فراق نے قوموں کے اختلاط کی بات کی ہے۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین اپنے کلیدی خطبہ میںاردوکے شعری سرمایے سے بہت سے دلچسپ اشعارپیش کیے ۔ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد ، استاذ شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ کے شکریہ پر افتتاحی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔اس سمینار کاادبی اجلاس کی صدارت پروفیسر سید فضل اللہ مکرم،صدر شعبۂ اردو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی نے کی جب کہ مہمانانِ خصوصی کے طور پروفیسر سیدہ طلعت سلطانہ اور پروفیسر محمد شوکت حیات شریک رہے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمدناظم علی، مقالہ نگاروں میں مرکزی و ریاستی جامعات کے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس بشمول شعبۂ اردو کے اسکالرس ڈاکٹر رفعیہ سلیم ، شریمتی نمبرتا باگڈے، ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی، ڈاکٹر اے۔ آر منظر، ڈاکٹر حمیرا سعید ، سید احمد واحد، محترمہ شائستہ ناز، ڈاکٹر رضوانہ بیگم، ڈاکٹر میمونہ بیگم، ڈاکٹر ناظم الدین، آسیہ تحسین، اور دیگر شامل تھے ۔ اس کے علاوہ اس بین الاقوامی سمینار میں مقالے داخل کرنے والوں میںڈاکٹر محمد عبدالقوی، مصطفیٰ علی سروری، ڈاکٹر محمد وحید، ڈاکٹر نوری خاتون، سید احمد حسینی، ایم۔اے خالق، ڈاکٹر سعدیہ سلیم، ڈاکٹر محمد ابرار الباقی ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین وغیرہ شامل ہیں۔پروفیسر سید فضل اللہ مکرم نے صدارتی خطاب میں مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کی۔ صدر سمینار پروفیسر سی۔گنیش نے تمام بیرونی و قومی مہمانوں سے اظہار تشکرکیا۔ ڈاکٹر تاج النسا کے شکریہ پر سمینار اختتام کو پہنچا۔