بیجنگ ۔ یکم ؍ ستمبر (ایجنسیز) روسی صدر پوتن اور ان کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ نے کرغستان میں دوطرفہ بات چیت کا آغاز کیا جہاں دارالحکومت بشکیک میں پیر اور منگل کو تقریباً دس ملکوں کے رہنماؤں کی موجودگی میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ شی نے پوتن سے کہا کہ وہ ان سے مل کر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس چین تعلقات مزید مضبوط ہو گئے ہیں اور ان کے مستقبل کی آفاق اور بھی روشن ہوں گے۔چینی رہنما نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی نظام عدم استحکام کی اعلیٰ سطحوں اور اتار چڑھاؤ اور ناقابل پیشگوئی واقعات کا سامنا کر رہا ہے۔ پوتن نے شی سے بات کرتے ہوئے تمام سطحوں پر دوطرفہ تعاون کی ترقی کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات گزشتہ مئی میں ہوئی تھی۔چار ساڑھے چار سال قبل یوکرین پر حملے کے بعد سے روسی معیشت چین پر زیادہ انحصار کرنے لگی ہے۔ اس دوران بیجنگ پر ماسکو پر دباؤ ڈالنے اور جنگ ختم کرنے کیلئے مغربی مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ کرملین کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اپنی بات چیت کے دوران یوکرینی معاملے کا سر سری طور پر ذکر کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے گزشتہ اجلاسوں کے دوران پوتن اور ژی جن پنگ نے ایک کثیر قطبی دنیا کے اپنے ویڑن کو فروغ دینے اور مغرب کے مقابلے میں ایک متحد محاذ سامنے لانے کا کام کیا۔ پوتن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی۔ اس سے قبل دونوں رہنما بات چیت کیلئے ایک ہی گاڑی میں پہنچے۔ روسی صدر نے صرف یہ اشارہ دینے پر اکتفا کیا کہ ماسکو یوکرین میں تنازعہ کے حل تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے۔ تاہم اس حوالے سے انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔