شکر کی قیمت میں اندرون 15 یوم فی کلو 14 روپئے کا اضافہ

   

گنے کی پیداوار میں کمی ، ایتھنول کی تیاری کا اثر ، چائے ، مٹھائیاں اور بیکری اشیاء پر اضافی بوجھ
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : عوام پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی گرانی سے پریشان تھے کہ اب شکر کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے کچن بجٹ کو بری طرح متاثر کردیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے مختلف حصوں میں گزشتہ 15 دنوں کے دوران شکر کی قیمت 46 روپئے فی کلو سے بڑھ کر 60 روپئے فی کلو تک پہونچ گئی ۔ مارکٹ کے ذرائع اور تاجروں کا انتباہ ہے کہ اگر سپلائی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں شکر کی قیمت 65 کلو سے بھی تجاوز کرسکتی ہے ۔ مارکٹ کی تفصیلی جائزہ رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ مرحلہ وار دیکھنے میں آیا ہے ۔ 15 دن قبل شکر 46 روپئے فی کلو فروخت ہورہی تھی ۔ ایک ہفتہ قبل قیمت بڑھ کر 52 روپئے فی کلو ہوئی ۔ فی الحال شکر کی قیمت 60 روپئے فی کلو تک پہونچ چکی ہے ۔ اس اچانک اضافے سے عام صارفین بالخصوص گھروں کو چلانے والی خواتین شدید تشویش کا شکار ہیں ۔ صارفین کا کہنا ہے کہ دیگر ضروری سامان کے ساتھ شکر جیسی بنیادی شئے کی مہنگائی نے گھروں کے بجٹ پر 14 روپئے فی کلو کا اضافی بوجھ عائد کردیا گیا ہے ۔ شکر کی گرانی کا سیدھا اثر چائے ، کافی ، مٹھائیوں اور بیکری کی مصنوعات پر پڑے گا ۔ اور ان اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھنے کا قوی امکان ہے ۔ معاشی تجزیہ کاروں اور کارپورٹس رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں شکر کی قیمتیں بڑھنے کے کئی اسباب ہیں جس میں گنے کی کاشت والے اہم علاقوں میں کم بارش کی وجہ سے فصل متاثر ہوئی ہے ۔ گھریلو اور مارکٹ کی بڑھتی مانگ کے مقابلے شکر کے دستیاب ذخائر کم ہورہے ہیں ۔ ICRA کے اندازوں کے مطابق ستمبر کے اختتام تک تقریبا 4.3 ملین ٹن تک ذخیرہ رہ سکتا ہے ۔ گنے کے رس کے بڑے پیمانے پر ایتھنول کی تیاری میں استعمال کئے جانے کی وجہ سے بھی شکر کے طور پر مارکٹ میں آنے والی مقدار میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ گنیش چتروتھی ، دسہرہ اور دیوالی جیسے بڑے تہواروں کی آمد کی وجہ سے مٹھائی ، بیکری ، پروسیڈ فوڈز اور ڈرنکس کی صنعتوں میں شکر کی کھپت میں ریکارڈ اضافہ ہوتا ہے ۔ اگست سے نومبر کے درمیان یہ اضافی طلب سپلائی چین پر شدید دباؤ ڈالتی ہے ۔۔ 2/m/b