شہر میں جلد ای ۔ ٹیکسیاں دوڑیں گی ۔ حکومت سے تقسیم کا منصوبہ

   

ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم کے تحت فیول گاڑیوں کی بجائے ای وہیکلس کی فراہمی پر غور

حیدرآباد ۔ 8 اگسٹ ( سیاست نیوز ) حیدرآباد میں حمل و نقل کے ذرائع میں تبدیلی لاتے ہوئے بہت جلد ای ٹیکسیوں کا غآز ہونے جا رہا ہے ۔ ریاستی حکومت نے ’’ ڈرائیور امپاورمنٹ پروگرام ‘‘ کے تحت تمام استفادہ کنندگان کو فیول پر چلنے والی کاروں کی بجائے الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے توثیق کی ہے کہ حکومت کی جانب سے اس اسکیم کے تحت استفادہ کنندگان کو الیکٹرانک گاڑیاںفراہم کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے ۔ برقی کی کھپت کے معاملے میں یہ گاڑیاں بہت سستی قرار پاتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں ماحولیاتی مسائل میں بھی کمی آتی ہے ۔ ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم کے تحت پسماندگہ طبقات سے تعلق رکھنے والے ڈرائیورس کو مختلف کارپوریشنس سے مدد کے ذریعہ یہ گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ ریاست میں ڈرائیورس کی کچھ گوشوں سے حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے کہ وہ الیکٹرانک گاڑیوں کا استعمال نہ کریں ۔ اس کیلئے کہا جا رہا ہے کہ ان گاڑیوں کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔ اس کیلئے ریاستی حکومت کی پالیسی ‘ چارجنگ اسٹیشنوں اور تکنیکی مسائل کو بھی وجہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ تاہم حال میں ریاستی عہدیداروں کا گرین سلیوشنس کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا جس میںای ٹیکسیوں کا خیال پیش کیا گیا ۔ کہا گیا کہ اگر حکومت کی مدد سے یہ گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں تو فیول پر چلنے والی کیابس کی تعداد میں کمی کی جاسکتی ہے ۔ مختلف برادریوں کے فینانس کارپوریشنس کی جانب سے ڈرائیور ۔ کم اونر اسکیم کے تحت کئی برسوں سے گاڑیاں تقسیم کی جا رہی ہیں اور اب ای گاڑیوں کی تقسیم عمل میں لانے کا منصوبہ ہے ۔ ریاست میں الیکٹرانک گاڑیوں کو فروغ دینے میں مصروف تلنگانہ فور وہیلر ڈرائیورس اسوسی ایشن کے ریاستی صدر شیخ صلاح الدین نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ حوصلہ افزاء قدم ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیورس کی جانب سے ان گاڑیوں سے بچنے کی ایک وجہ ان کی بھاری قیمتیں ہیں حالانکہ مرکزی حکومت بھی ان گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ فیول پر چلنے والی اور الیکٹرانک گاڑیوں کی قیمتوں میں دو تا تین لاکھ روپئے کا فرق ہے ۔