ایک نوجوان کار ڈیلر کی گرفتاری کے بعد کئی لوگوں کی نیندیں حرام، بے تحاشہ دولت کمانے کے جنون کے منفی اثرات
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 13 مئی : دولت کمانے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن حصول دولت کیلئے جو غلط راستے اختیار کئے جا رہے ہیں وہ رجحان انتہائی خطرناک ہے اور اب شہر کے نوجوان جو جلد دولت مند بننے کے خواہش مند ہیں ان کے اطراف ڈائرکٹویٹ آف ریونیو انٹلیجنس‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے علاوہ سی بی آئی کا شکنجہ کسنے لگا ہے۔شہر میں موجود رئیس زادے اپنی دولت میں جلد اضافہ اور شارٹ کٹ سے کروڑہا روپئے کمانے کے چکر میں نہ صرف غیر قانونی راستے اختیار کرنے لگے ہیں بلکہ ناجائز طریقہ سے دولت کے حصول کو بھی وہ فخریہ طور پر پیش کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ کامیاب تاجر ہیں ۔سیاسی سرپرستی کے حامل خاندانوں کے ان نوجوانوں کی دولت میں اضافہ نے محنت کش ‘ دیانتدار تاجرین کو تشویش میں مبتلاء کیا ہوا ہے۔ شہر سے گذشتہ دنوں ایک کارڈیلر کو ڈی آرآئی نے حراست میں لیا جس کے بعد کئی رئیس زادوں اورمتمول خاندانوں میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے کیونکہ شہر کے بیشتر رئیس زادے مذکورہ شخص کے پاس سرمایہ کاری کئے ہوئے ہیں۔ اپنی دولت کی نمائش کرکے حکومت سے قربت اختیار کرنے والے ان نوجوانوں کے کاروبار کے متعلق مکمل آگہی کے باوجود ان سے قرابت داری کئی شریف خاندانوں کو مشکلات کا شکار بناسکتی ہے کیونکہ ایک نوجوان کو ڈی آر آئی کے حراست میں لینے کی اطلاع اور شہر کے معروف خاندان پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے دھاوے ‘ ایک علمی گھرانے کے پاس سے کروڑہا روپئے مالیتی تین کاروں کی ضبطی اور محروس شخص کے کاماریڈی سے تعلق کے انکشاف نے سرمایہ کاروں میں کہرام مچادیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق گاڑیوں کے کاروبار کی آڑ میں دیگر تجارتی سرگرمیوں کا بھی ملک کی مختلف ایجنسیوں نے جائزہ لینا شروع کیا ہے اور کاروں کے اس کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی تفصیلات سے آگہی حاصل کرنے تفتیش کا عمل جاری ہے۔ حکومت سے قربت کا فائدہ اٹھاکر غیر قانونی سرگرمیاں انجام دینے والوں کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ انہیں سرکاری عہدے حاصل ہونے کے بعد وہ اپنے کاروبار کو کئی بیرون ممالک تک وسعت دینے لگے ہیں اوران کا مرکز دوبئی بنتا جارہا ہے۔ سیاسی قائدین ان نوجوانوں کو اپنی سرمایہ کاری کے ذریعہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث کرنے لگے ہیں اور کئی نوجوان تجارتی منافع کے نام پر مختلف ذرائع سے کمائی دولت میں سیاسی قائدین کو بھی حصہ دینے لگے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی آرآئی کی حراست میں موجود نوجوان کو بازار گھاٹ سے گچی باؤلی تک کے تجارتی سفر اور اس سفر میں ان کے ہمسفر سرمایہ کاروں کے متعلق بھی تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ شہر میں جاری ان دھاوؤں کے متعلق کہا گیا کہ کاروں کے شوقین رئیس زادوں کے علاوہ اپنی دولت میں تیزی سے اضافہ کے خواہش مند نوجوان بھی ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ سیاستدانوں سے قربت والے گھروں میں دعوت افطار اور عید ملاپ تقاریب کی ذمہ داریاں قبول کرکے اپنے اخراجات پر دولتمندوں کی میزبانی کرنے والے نوجوانوں کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی قائدین بھی راست یا بالواسطہ ان سرگرمیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ شہر میں مرکزی ایجنسیوں کی کاروائیوں نے دولت مند خاندانوں کی نیندیںاڑا رکھی ہیں اور کئی سر پرستوں نے اپنے نوجوانوں کو بیرون ملک روانہ کردیا ہے ۔ کاروں کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے گروہ کی دیگر سرگرمیوں کے متعلق جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق ان کے کاروبار کے تار دوبئی سے بھی جڑے ہوئے ہیں جبکہ وہ شہر کے نواحی علاقوں میں رئیل اسٹیٹ تجارت میں بھی سرگرم ہیں۔ اس گروہ میں شامل نوجوانوں میں موجود یکسانیت صرف دولت مند ہونا ہے جبکہ سیاسی نظریات ‘ مذہبی معاملات کے علاوہ دیگر امور سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ڈی آر آئی ‘ ای ڈی ‘ سی بی آئی کے علاوہ دیگر ایجنسیوں کی شہر میں کاروائیوں کے متعلق جو عوامی رائے پیدا ہورہی ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ سابق میں بھی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ‘ ڈائرکٹوریٹ آف ریوینیو انٹلیجنس کے علاوہ سی بی آئی نے بھی کاروائیاں کی ہیں لیکن چند ایک کاروائیوں کے علاوہ کئی اہم دھاؤوں کے متعلق کوئی انکشافات نہیں کئے گئے ۔ اسی طرح ان کاروائیوں کی بھی سیاسی سرپرستی میں پردہ پوشی کرلی جائے گی!
(جاری ہے)