احمد علوی
فرق … !!
حلال و جھٹکے میں یارو یہی ہے فرق تھوڑا سا
کہ اک یک لخت ہے اور اک عذاب آہستہ آہستہ
قلم محبوبہ کر دیتی ہے سر کو ایک جھٹکے میں
یہ بیوی کرتی ہے خانہ خراب آہستہ آہستہ
…………………………
ظریفؔ لکھنوی
کیا ہوتا …!!
مجنوں کا جو اے لیلیٰ جوتا نہ پھٹا ہوتا
پیچھے ترے ناقہ کے کیوں برہنہ پا ہوتا
بے فائدہ غل مچتا کیا جانیے کیا ہوتا
گر ان کی گلی ہوتی اور میرا گلا ہوتا
ہوتا اگر آدم کا دنیا میں کوئی بھائی
نسل بنی آدم کا واللہ چچا ہوتا
گر قیس کی وحشت کا کچھ اونٹ اثر لیتا
لیلیٰ کو گرا دیتا اور بھاگ کھڑا ہوتا
مفلس سے زیادہ تر منعم ہی گرسنہ ہیں
کیوں روز ہوا کھاتے گر پیٹ بھرا ہوتا
وہ بن کے مسیحا بھی اچھا جو نہ کر سکتے
بیمار ترے حق میں یہ اور برا ہوتا
معدوم دہن ہوتا مفقود کمر ہوتی
معشوق ظریفؔ ایسا ہوتا بھی تو کیا ہوتا
…………………………
ضربِ یوسفی…!!
٭ شراب کو ڈرنکس کہا جائے تو کم حرام معلوم ہوتی ہے۔
٭ راجستھان کے راجپوتوں میں اُلٹا دستور ہے، اونٹ پر بیٹھی ہوئی عورت کے انداز نشست کو دیکھ کر ایک میل دور سے بتلا سکتے ہیں کہ وہ سوار کی بہن ہے یا بیوی، بہن کو راجپوت سردار ہمیشہ آگے بٹھاتے ہیں تاکہ خدانخواستہ گرپڑے تو فوراً پتہ چل جائے۔ بیوی کو پیچھے بٹھاتے ہیں…!!
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’رشوت خوری …!!‘‘
٭ سرکاری محکموں میں کرپشن کی بیماری لگتا ہے اب ان کے رگ و ریشوں میں پھیل گئی ہے۔ جس میں سنتری سے منتری تک سب شامل ہیں۔ کرپشن کی اس بھیانک صوتحال پر روزنامہ سیاست نے جمعرات کے روز ایک ایڈیٹوریل لکھا جس میں سرکاری عہدیداران کی کروڑہا روپئے رشوت خوری کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اور سماج کی بہتری کے لئے اس کی فوری روک تھام کے اقدام پر زور دیا۔
معروف مزاح نگار نریندر لوتھر آئی اے ایس جب بلدیہ حیدرآباد کے اسپیشل آفیسر ہوا کرتے تھے تو انھوں نے اپنے ایک مضمون میں محکمہ بلدیہ میں رشوت خوری پر ایک جملہ لکھا تھا ’’بلدیہ کھایا پیا چل دیا، کچھ دیا تو کردیا، نئیں دیا تو بل دیا‘‘۔ لگتا ہے :’’کچھ دیا تو کردیا، نئیں دیا تو بل دیا‘‘ کا یہ فارمولہ اب سارے سرکاری محکموں میں پھیل گیا ہے۔ اس طرح ہمارا سماج ایک ’’رشوت خورسماج‘‘ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
اپنی جگہ …!!
٭ ایک مرد اور ایک عورت ٹرین میں سفر کررہے تھے … ! دوران سفر عورت نے کہا:’’جب بھی آپ مسکراتے ہیں ، مجھے ایسا لگتا ہے جیسے آپ کو اپنی جگہ پر مدعو کیا جائے ؟
مرد : واہ …! کیا آپ Single ہیں ؟
عورت : نہیں …! میں ڈینٹسٹ ہوں …!
اختر عبدالجلیل ناز ۔ محبوب نگر
…………………………
گونگی بدمعاشی …! ؟
٭ بیگم پورے 15 منٹ اپنے خاموش شوہر پر گرجنے کے بعد بولی:’’ میں لڑائی ختم کرنا چاہ رہی ہوں، مگر تمہاری اس گونگی بد معاشی کی وجہ سے گھر جہنم بنتا جا رہا ہے…!!‘‘۔
محمد امتیاز علی نصرتؔ ۔ پداپلی
…………………………
واپس کرنے …!!
٭ لائبریری میں ایک شخص آیا اور بولا جس میں خودکشی کے طریقے ہوں ایسی کوئی کتاب ہے؟لائبریرین دو منٹ اس شخص کو دیکھا پھر گٹکھا تھوکتے ہوئے بولا : ’’واپس کرنے کون آئے گا بے …؟؟‘‘
سہیل شاہ ۔ محبوب نگر
…………………………