واشنگٹن ۔ صدر جو بائیڈن نے امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر کی بحالی کی کوششوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ایشیا کے دورے کا آغاز کردیا ہے۔ انھوں نے جمعہ کو جنوبی کوریا میں سام سنگ کمپیوٹر چپ پلانٹ کا دورہ کیا جو 17 ارب ڈالر کی مالیت سے ایک ماڈل سیمی کنڈکٹر فیکٹری آسٹن، ٹیکساس کے باہر تعمیر کر رہی ہے۔ یہ دورہ کمپیوٹر چپس کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی بائیڈن کی اہم ملکی ترجیحات کے تحت کیا گیا۔ گزشتہ برس سیمی کنڈکٹر کی کمی سے آٹو، کچن کے آلات اور دیگر سامان کی دستیابی مشکل ہوگئی تھی۔ بائیڈن جنوبی کوریا اور جاپان کے اپنے 6 روزہ دورے میں خارجہ پالیسی کے بہت سے دیگر مسائل سے نمٹنے کی کوشش کریں گے۔ ایئر فورس ون پر سوار سفر کا جائزہ لیتے ہوئے، وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ ٹیکساس میں سام سنگ کی سرمایہ کاری کا مطلب ہوگا امریکیوں کیلئے اچھی تنخواہ والی ملازمتیں اورسپلائی چین کی بہتری۔ کمپیوٹر چپ کی کمی کے باعث اس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران سیمی کنڈکٹر پلانٹس بند رہے جس سے اس کی سپلائی پوری دنیا میں متاثر ہوئی۔