تلنگانہ کے منگوڑ سمیت تمام حلقوں میں 6نومبر کو رائے شماری
نئی دہلی :ملک کی چھ ریاستوں میں سات اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخاب میں /3 نومبر کو ووٹنگ ہوئی۔ یہ مقابلہ بی جے پی اور علاقائی جماعتوں کے درمیان شدید میدان جنگ کی علامت تصور کیا جارہا ہے۔ بہار کے موکاما اور گوپال گنج اسمبلی حلقوں، مہاراشٹر اکے اندھیری (مشرقی)، ہریانہ کے آدم پور، تلنگانہ کے منگوڑ، اتر پردیش کے گولا گورکھناتھ اور اڈیشہ کے دھام نگر میں آج پولنگ ہو ئی۔ حکام نے ووٹنگ کے لیے وسیع انتظامات کیے تھے۔جن سات سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں بی جے پی کے پاس تین، کانگریس کے پاس دو جبکہ شیوسینا اور آر جے ڈی کے پاس ایک ایک سیٹ تھی۔ اگرچہ ضمنی انتخابات میں جیت اسمبلیوں میں ان کی پوزیشن کے لیے غیر اہم ہو گی، تاہم جماعتوں نے اس مقابلے کو ہلکے سے نہیں لیا اور بھرپور مہم چلائی۔ ووٹوں کی گنتی 6 نومبر کو ہوگی۔بی جے پی اتر پردیش کی گولا گورکھناتھ سیٹ اور بی جے ڈی کے زیراقتدار اڈیشہ میں دھام نگر کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، ہمدردی کے ووٹوں کی بنیاد پر اس نے موجودہ ایم ایل اے کے بیٹوں کو میدان میں اتارا ہے جن کی موت کی وجہ سے ضمنی انتخابات کی ضرورت پڑی۔ بی جے پی اور حکمراں ٹی آر ایس تلنگانہ کے منگوڑ میں جارحانہ طور پر مہم چلا رہی تھی، جہاں کانگریس کے ایم ایل اے نے استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ زعفرانی پارٹی کے ٹکٹ پر لڑ رہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے پولنگ کے لیے وسیع انتظامات کیے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں سے ویب کاسٹنگ کی گئی۔
ہریانہ کے آدم پور میں سابق وزیر اعلی بھجن لال کے چھوٹے بیٹے کلدیپ بشنوئی کے اس سیٹ سے ایم ایل اے کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور اگست میں کانگریس سے بی جے پی میں جانے کے بعد ضمنی انتخاب کی ضرورت پڑ گئی۔بشنوئی کے بیٹے بھاویہ اب بی جے پی امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ آدم پور سیٹ 1968 سے بھجن لال خاندان کے پاس ہے، آنجہانی سابق وزیر اعلیٰ نے نو مواقع پر اس کی نمائندگی کی۔ کانگریس، انڈین نیشنل لوک دل، اور عام آدمی پارٹی ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والی اہم جماعتوں میں شامل ہیں۔ کانگریس نے سابق مرکزی وزیر جئے پرکاش کو بھی میدان میں اتارا ہے جو کہ حصار سے تین بار ایم پی اور دو بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔