طبی خدمات کے معاملہ میں تلنگانہ کو ملک میں تیسرا مقام: ہریش راؤ

   

میڈیکل نشستوں میں تلنگانہ سرفہرست، 9 نئے میڈیکل کالجس کی منظوری، 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس، 100 نئے بستی دواخانوں کا منصوبہ

حیدرآباد۔/29 جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر صحت ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ بہتر طبی خدمات کی فراہمی میں تلنگانہ ملک میں تیسرے مقام پر ہے۔ نیتی آیوگ نے ملک کی تمام ریاستوں میں بہتر طبی خدمات کے سلسلہ میں جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں جن تین ریاستوں کو سرفہرست رکھا گیا ان میں تلنگانہ شامل ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ گذشتہ سال کے مقابلہ جاریہ سال طبی خدمات میں مزید بہتری آئی ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیدار و ملازمین ایک خاندان کی طرح کام کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں یہ اہم کامیابی ملی ہے۔ وزیر صحت نے آج حیدرآباد میں محکمہ صحت کی کارکردگی پر مشتمل سالانہ رپورٹ جاری کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ طبی خدمات کے معاملہ میں کیرالا اور ٹاملناڈو کے علاوہ مہاراشٹرا میں بہتر خدمات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2022 طب کے شعبہ میں بہتر کارکردگی کے لحاظ سے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ نیتی آیوگ نے ملک بھر میں تین ریاستوں کا انتخاب کیا ہے جہاں بہتر طبی خدمات عوام کیلئے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجس کی تعداد میں اضافہ سے میڈیکل خدمات میں بہتری آئی ہے۔ سابق میں صرف 8 میڈیکل کالجس سرکاری سطح پر موجود تھے کے سی آر حکومت نے مزید 9 میڈیکل کالجس کا اضافہ کیا ہے۔ حیدرآباد کے اطراف 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس قائم کئے جارہے ہیں۔ ورنگل میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور حیدرآباد کے اطراف 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس میں 8000 بستروں کی گنجائش رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 515 عصری ڈائیلاسیس کے آلات کے ذریعہ ریاست میں 61 ڈائیلاسیس مراکز کو منظوری دی گئی ہے۔ ریاست کے 22 اضلاع میں ڈائیگناسٹک ھب قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب مزید 13 اضلاع میں ڈائیگناسٹک سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ ہریش راؤ کے مطابق 62 فیصد ڈیلیوریز سرکاری دواخانوں میں ہورہی ہیں۔ گذشتہ ایک سال میں 98 بستی دواخانے قائم کئے گئے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ اُتر پردیش جہاں ڈبل انجن سرکار ہے طبی سہولتوں کے معاملہ میں ملک میں آخری نمبر پر ہے۔ قومی ہیلت کمیشن نے دیگر ریاستوں کو تلنگانہ کی طبی خدمات اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کمیشن نے تلنگانہ ڈائیگناسٹک سنٹرس کے قیام کی ستائش کی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست میں 31 لاکھ افراد کو ٹیلی کنسلٹنسی خدمات فراہم کی جارہی ہیں اور یہ خدمات ملک بھر کیلئے مثالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم بی بی ایس کی نشستوں میں تلنگانہ پہلے نمبر پر ہے جبکہ پی جی میڈیکل نشستوں میں تلنگانہ کو دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ ٹی بی پر قابو پانے کے معاملہ میں مرکز نے تلنگانہ کو ایوارڈز سے نوازا ہے۔ گذشتہ سال 617 اعضاء کی پیوندکاری کے آپریشن کئے گئے۔ تلنگانہ کے سرکاری دواخانوں میں 27500 بستروں کی گنجائش ہے جن میں سے ہر ایک آکسیجن کی سہولت سے لیس ہے۔ مریضوں کو دی جانے والی غذا کے اخراجات کو 40 سے بڑھا کر80 روپئے کیا گیا ہے۔ ریاست کے 18 اہم سرکاری دواخانوں میں مریض کے ساتھ تیمار دار کو بھی غذا سربراہ کی جارہی ہے۔ وزیر صحت نے بتایا کہ آروگیہ شری اسکیم کے تحت 2.59 لاکھ افراد کو طبی خدمات فراہم کی گئیں۔ اس اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپئے اور سنگین امراض کی صورت میں 10 لاکھ روپئے تک منظور کئے جارہے ہیں۔ ریاست میں 887 پرائمری ہیلت سنٹرس میں بنیادی طبی سہولتیں دستیاب ہیں اور تمام پرائمری ہیلت سنٹرس کو سی سی ٹی وی کیمروں سے مربوط کیا گیا ہے۔ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2021 میں 4.21 کروڑ افراد نے آؤٹ پیشنٹ خدمات سے استفادہ کیا جبکہ 2022 میں یہ تعداد بڑھ کر 4.80 کروڑ ہوچکی ہے۔ 2021 میں اِن پیشنٹ مریضوں کی تعداد 14.16 لاکھ تھی جو 2022 میں بڑھ کر 16.90 لاکھ ہوچکی ہے۔ 2021 میں قلب کے آپریشن 2.57 لاکھ کئے گئے جبکہ 2022 میں 3.04 لاکھ قلب کے مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ایک سال کے عرصہ میں 986 ڈاکٹرس کے تقررات کئے گئے۔ ریاست میں ماں اور بچہ کی نگہداشت اسکیم کیلئے 403 کروڑ منظور کئے گئے ہیں۔ ڈیلیوری آپریشن کی شرح میں کمی کیلئے نارمل ڈیلیوری کرنے والے طبی عملے کو 3 ہزار روپئے بطور حوصلہ افزائی دیئے جارہے ہیں۔ کے سی آر کٹ اور نیوٹریشن کٹ کے ذریعہ صحت بخش اشیاء سربراہ کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے علاوہ دیگر شہروں میں مزید 100 بستی دواخانوں کے قیام کی تیاریاں جاری ہیں۔ آزادی کا امرت مہااُتسو پروگرام میں تلنگانہ کو کئی ایوارڈس ملے ہیں۔ ریاستی حکومت جاریہ سال ہر ضلع میں میڈیکل کالج کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جاریہ سال کے اختتام تک 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کی تعمیر کا کام مکمل کردیا جائے گا۔ر