طلباء پر پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا‘ پرینکا گاندھی کا سوال

,

   

پردھان کو ہٹا کر ’پردھان منتری‘ کو بچا لیا گیا، اکھلیش یادو کا طنز،لوک سبھا میںاینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث
زبردست شور شرابا، وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی غیر موجودگی پر اپوزیشن کا سخت اعتراض

 نئی دہلی ۔28؍جولائی ( ایجنسیز )لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ 2024 میں منظور ہونے والے قانون کے باوجود آج تک پیپر لیک کے کسی ملزم کو سزا نہیں ملی۔ احتجاجی طلبہ کے نام تو عوامی کیے جا رہے ہیں لیکن پیپر لیک کے ملزمین کے خلاف ایسی کارروائی نظر نہیں آتی۔ پرینکا گاندھی نے وزیراعظم    مودی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مشیروں کو بدلیں کیونکہ نئی نئی کمیٹیاں بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے رادھا کرشنن کمیٹی اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد صرف ویڈیوز بنانے سے نہیں بلکہ جوابدہی سے بحال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی لاٹھیاں بچوں کی پیٹھ پر نہیں بلکہ حکومت کی ساکھ پر پڑی ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک میں ووٹ، رام مندر کے چندے اور کسانوں کی زمین کی چوری جیسے معاملات سامنے آئے لیکن سب سے بڑی چوری اس وقت ہوئی جب نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے خواب چھین لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا نوجوان مایوس ہو گیا تو یہ صرف اس کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی شکست ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وہ آر ایم ایل ہاسپٹلگئیں جہاں زخمی طلبہ کی والدہ اپنی بیٹی کی حالت پر انصاف کا مطالبہ کر رہی تھیں۔انہوں نے سوال کیا کہ آخر پیلٹ گن استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا اور مظاہرین، خصوصاً طالبات، کے ساتھ بدسلوکی کیوں کی گئی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورا ملک ان سوالات کے جواب چاہتا ہے کیونکہ پارلیمنٹ عوام کی امانت ہے اور حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث میں ٹی ایم سی رکن ابھیشیک بنرجی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اکھلیش یادو نے  حکومت پر ملک کے تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ پیپر لیک کے واقعات نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے امتحانات کے دوران جان گنوانے والے طلبہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے والدین نے خود اپنے بچوں کو احتجاج کیلئے بھیجا، کیونکہ انہیں اپنے مستقبل کی فکر تھی۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ جو لوگ مندروں میں چڑھاوے کی حفاظت نہیں کر سکے وہ پیپر لیک کیسے روکیں گے؟  اکھلیش یادو نے  کہا کہ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ کون لوگ تھے جو این ٹی اے میں بیٹھ کر مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث تھے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ حکومت کبھی نہیں جھکتی، لیکن نئی نسل نے ثابت کر دیا کہ اگر عوام متحد ہوں تو حکومت کو بھی جھکایا جا سکتا ہے۔ سابق وزیر تعلیم  پردھان کے ایوان سے باہر استقبال پر انہیں کوئی اعتراض نہیں تاہم اس فیصلے سے حکومت نے دراصل ایک وزیر کو ہٹا کر وزیراعظم کو بڑے سیاسی بحران سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پردھان کو ہٹا کر پردھان منتری کو بچا لیا گیا۔لوک سبھا میں آج 2 بجے جب کارروائی شروع ہوئی تو ’اینٹی پیپر لیک بل‘ یعنی ’دی پبلک اگزامنیشن (پریونشن آف انفیئر مینس) امینڈمنٹ بل، 2026‘ پر بحث شروع ہوئی۔ اس موقع پرلوک سبھا میں وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی غیر موجودگی پر اپوزیشن نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پیپر لیک معاملہ میں اپنی صفائی پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ امتحانات میں پیپر لیک ہوتے رہے ہیں۔ پیپر لیک کسی ایک ریاست تک محدود نہیں رہا، لیکن شاید اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی جیسی کہ اب کی جا رہی ہے۔