حیدرآباد 9 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ایسے کئی دیہات اور قصبے ہیں جہاں سرکاری اسکولس نہیں ہیں۔ حصول تعلیم کیلئے طلبہ کو دیگر مواضعات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے طلبہ کو ماہانہ 600 روپئے ٹرانسپورٹ بھتہ فراہم کرنے سماگرا سیکشھا ابھیان نے تجاویز تیار کی ہیں۔ ریاست کے مختلف مواضعات کا جائزہ لینے کے بعد عہدیداروں نے 3,882 قصبوں کی نشاندہی کی جہاں 37,103 ایسے طلبہ ہیں جن کے دیہاتوں میں اسکولس نہیں ہیں وہ قریبی گاؤں پہنچ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ چند طلبہ آٹوز اور چند طلبہ ویانس میں سفر کرتے ہوئے اپنی تعلیمی ضروریات کی تکمیل کررہے ہیں۔ قانون حق تعلیم کے تحت انہیں ٹرانسپورٹ بھتہ فراہم کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ پہلی تا پانچویں جماعت کے طلبہ کو ایک کیلو میٹر، آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کو تین کیلو میٹر اور نویں و دسویں جماعت کے طلبہ کو 5 کیلو میٹر دو رتعلیم حاصل کرنے پر ٹرانسپورٹ بھتہ فراہم کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے۔ تجاویز کا حکومت جائزہ لے رہی ہے۔ منظوری حاصل ہوتے ہی ٹرانسپورٹ بھتہ پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ن