طلبہ کے سرٹیفکیٹس روکنے پر تلنگانہ ہائیکورٹ کی کالجس کو سخت وارننگ

   

حکومت اور کالجس کے تنازعہ کی سزا طلبہ کو کیوں ۔ فوری سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت
حیدرآباد : /22 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے فیس ریمبرسمنٹ بقایاجات کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ۔ مختلف پروفیشنل کالجس کی جانب سے طلبہ کے سرٹیفکیٹس کو روک کر ان کی اعلیٰ تعلیمی سرگرمیوں و ملازمتوں کے مواقع میں رکاوٹیں کھڑا کرنے کی شکایت وصول ہو رہی ہیں ۔ ہائیکورٹ کی جانب سے پھٹکار کے باوجود کالج انتظامیہ سرٹیفکیٹس دینے سے صاف انکار کررہے ہیں جس سے طلبہ کا مستقبل تاریک بنتا جارہا ہے ۔ ایک ہفتہ قبل ہی تلنگانہ ہائیکورٹ نے ریاست کے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچادینے والے ایک اہم فیصلے میں تمام خانگی کالجس کو سخت وارننگ جاری کی کہ فیس ریمبر سمنٹ کی رقم زیرالتواء ہونے کی بنیاد پر کسی طالبعلم کے تعلیمی سرٹیفکیٹس اور مارکس میموز کو ہرگز نہیں روک سکتے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان فیس کی ادائیگی کا تنازعہ اپنی جگہ ہے لیکن اس کی سزا طلبہ کے مستقبل کو نہیں دی جانی چاہئیے ۔ /14 اکٹوبر کو چیف جسٹس پوتی چیراسام کوشی اور جسٹس سدلاچلاپتی راؤ کی ڈیویژن بنچ نے یہ احکامات جاری کئے ۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کالجس کے بقایا جاتا کا کوئی تنازعہ حکومت کے ساتھ ہے تو تعلیمی ادارے اس کی وصولی کیلئے قانون کا راستہ اختیار کرنے آزاد ہیں ۔ لیکن اس تنازعہ کی آڑ میں طلبہ کے مارکس میموز ، بونافائیڈ سرٹیفکیٹس اور دیگر ضروری سرٹیفکیٹس کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ۔ طلبہ اور والدین کی جانب سے کالج انتظامیہ سے رجوع ہوکر سرٹیفکیٹس طلب کررہے ہیں تو وہ اپنی مجبوری کا اظہار کرکے سرٹیفکیٹس کیلئے فیس ادا کرنے پر زور دے رہے ہیں ۔ حکومت سے ری ایمبر سمنٹ ہونے پر واپس کردینے کا تیقن دے رہے ہیں جس سے طلبہ و اولیائے طلبہ میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے ۔ 2/y