عادل آباد میں نابالغ لڑکوں کی ڈرائیونگ، والدین کے ساتھ ایس پی کی کونسلنگ

   

حیدرآباد 4 مئی (سیاست نیوز) عادل آباد ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکھل مہاجن نے نابالغ لڑکوں کے گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے جانے پر ان کے والدین کے ساتھ منعقدہ ایک کونسلنگ سیشن میں کہاکہ نابالغ لڑکوں کا گاڑی چلانا قانون کے مطابق جرم ہے۔ انھوں نے کہاکہ اگر کوئی نابالغ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑی چلاتا ہوا پایا جائے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ گاڑی کے مالک اور والدین جو نابالغ بچوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دیتے ہیں تو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جائے گا اور اگر نابالغ سے حادثہ پیش آتا ہے تو انشورنس منسوخ کردیا جائے گا۔ انھوں نے یقین دلایا کہ متوسط طبقہ کے خاندانوں کو ان کے بچوں کے 18 سال ہونے پر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے میں مدد فراہم کریں۔ ایس پی نے کہاکہ ضلع پولیس ایک ہفتہ تک چلائی گئی خصوصی مہم کے دوران 295 نابالغ پکڑے گئے اور تمام 295 گاڑیوں کو ضبط کرلیا گیا۔ ہیڈکوارٹر میں والدین کی کونسلنگ کے بعد گاڑیاں واپس کردی گئیں۔ انھوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ سڑکوں پر خاص طور پر رات کے وقت غیر ضروری طور پر نہ گھومیں۔ نابالغ لڑکوں کے گاڑی چلانے سے ان کے لئے اور دوسرے مسافروں کے لئے بھی خطرہ ہے۔ انھوں نے والدین پر زور دیا کہ 18 سال ہوتے ہی لائسنس بنائیں اور تب تک بچوں کو گاڑی چلانے نہ دیں۔ (ش)