عاشور خانہ مکئی نعل صاحب میں نقار خانہ اور الاوہ منہدم

   

عثمان بن محمد الہاجری و حامد حسین جعفری کا احتجاج ، تعمیری سرگرمیاں وقف بورڈ کی مداخلت سے ناکام
حیدرآباد۔28 ۔ڈسمبر(سیاست نیوز) لینڈ گرابرس نے کاروان میں موجود موقوفہ عاشور خانہ مکئی نعل صاحب کے بیشتر تمام آثار کو مٹاتے ہوئے اس وسیع و عریض اراضی پر تعمیری سرگرمیوں کے آغاز کردیا تھا جسے تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے ناکام بنادیا۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو عاشور خانہ کے انہدام کے سلسلہ میں شکایت موصول ہوتے ہی صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ایک ٹیم کاروان روانہ کی جہاں انہدامی کاروائی کے بعد ملبہ کی صفائی جاری تھی۔ اس قدیم عاشور خانہ میں موجود نقارخانہ اور الاوہ کو منہدم کردیا گیا اور اس جگہ کی معائنہ کرنے والی ٹیم کے ذمہ داروں کا کہناہے انہدامی کاروائی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کاروائی کوئی نئی نہیں ہے بلکہ گذشتہ کئی دنوں سے انہدام کیا جا رہا تھا اور لب سڑک واقع اس عاشور خانہ کی سامنے کی دیواروں کو منہدم نہیں کیا گیا بلکہ اندرونی حصہ کو پوری طرح سے منہدم کرتے ہوئے اس کی صفائی کا عمل جاری تھا۔ جناب عثمان بن محمد الہاجری اور جناب حامد حسین جعفری نے عاشورخانہ کے انہدام کی جگہ پہنچ کر اس کاروائی کے خلاف احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ جن لوگوں نے عاشور خانہ کو مسمار کیا ہے ان کے خلاف ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے انہیں گرفتار کروانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ مذکورہ عاشورخانہ کے تمام ریکارڈس وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں اور اس عاشور خانہ پر تولیت اور کمیٹی کے دعوے کرنے والوں کے متعلق بورڈ اپنے ریکارڈس کی جانچ کے بعد 29ڈسمبر کو پولیس میں شکایت درج کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رکن اسمبلی کاروان و رکن وقف جناب کوثر محی الدین نے بھی اس انہدامی کاروائی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لئے مکتوب روانہ کرتے ہوئے بورڈ کو متوجہ کروایا ۔عاشور خانہ مکئی نعل صاحب کا ذکر سلطنت عثمانیہ کے ریکارڈس میں بھی موجود ہے جسے وقف عملہ کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے منہدم کیا گیا ہے۔م