کابل : افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ کو کابل میں داخلے سے روک دیا گیا۔طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جرمن نیوز چینل ڈوئچے ویل سے گفتگوکے دوران کہا کہ رچرڈ بینیٹ کو کئی ماہ قبل اطلاع دی گئی تھی کہ ان کی افغانستان واپسی کا خیر مقدم نہیں کیا جائے گا اور انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔دریں اثنا، سفارتی ذرائع نے طالبان کے حوالے سے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کو افغانستان میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کا تعلق انسانی حقوق کی نگرانی اور ان کی کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کے معاملے سے نہیں بلکہ بینیٹ کے ساتھ ذاتی مسئلے سے متعلق ہے۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ بینیٹ پر ملک میں داخلے پر پابندی اس وجہ سے عائد کی گئی ہے کیونکہ افغانستان میں ان کی تعیناتی کا مقصد پروپیگنڈہ پھیلانا تھا، وہ ایک ایسا شخص ہے جس کی کسی بات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتاحکومت نے کہا کہ وہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو پروپیگنڈے کے مقصد سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا تھا۔یہ قابل ذکر ہے کہ بینیٹ جیسے خصوصی نمائندے جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے فریم ورک کے اندر آزاد ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کا امدادی مشن ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی اور رپورٹنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔