عالمی برادری لبنان کے نئے غزہ بننے کیمتحمل نہیں ہوسکتی : گوٹیریس

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے خبردار کیا ہے کہ لبنان، اسرائیل اورعالمی برادری لبنان کے نئے غزہ بننے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ سطحی نمائندوں کو ایک ہفتے کے لیے نیویارک میں یکجا کرنے والاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 79 واں اجلاس کل شروع ہوا۔یہ سیشن، 79ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے چیئرمین کیمرون کے فلیمون یونگ کی صدارت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی تقریر سے شروع ہوا۔انتونیو گوٹیرس نے اس طرف اشارہ کیا کہ دنیا کسی طوفان اور بہت اہم تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، اس وقت درپیش چیلنجز بے مثال ہیں اور عالمی حل کی ضرورت ہے۔گوٹیریس نے کہا کہ اس ضرورت کے باوجود جغرافیائی سیاسی دوریاں مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہیں۔کرہ ارض میں جنگیں ہو رہی ہیں، جن کے انجام تک کا ہمیں علم نہیں۔ جوہری طاقت کے مظاہرے اور ہتھیار کالے بادلوں کی طرح ہم پر چھا رہے ہیں۔ہم ایک ایسی چیز کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کے بارے میں ہم سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ یہ ایک ایسا بم ہے جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا ہے اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے”۔گوٹیرس نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی موجودہ صورتحال غیر پائیدار ہے اور اس بات کی نشاندہی کی کہ درپیش چیلنجوں کا حل ممکن ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی مسائل کے حل کے طریقہ کار کو موثر ہونا چاہیے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے انتباہ دیا کہ دوسری جانب غزہ کی صورتحال کبھی نہ ختم ہونے والے کسی ڈراؤنے خواب کی طرح ہے اور اس کیپورے خطے کو لپیٹ میں لینے کا خطرہ موجودہے۔انہوں نے کہا اس چیز کا اندازا کرنے کے لیے لبنان کی طرف دیکھنا ہی کافی ہو گا، “لبنان، اسرائیل اور پوری دنیا لبنان کے ایک نیا غزہ بن جانے کی محتمل نہیں ہو سکتی۔گوٹریس نے خبردار کیا کہ لبنان تباہی کے دہانے پر ہے اور صورتحال تشویشناک ہے۔