لندن: عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں جون سے اب تک بڑی کمی درج کی گئی ہے جب کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پانے کی صورت میں مارکیٹ میں اضافی خام تیل کی رسد سے قیمتیں مزید گرنے کا امکان ہے لیکن اس کے باوجود مہنگائی کی شرح بدستور بلند ہے ۔ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ماسکو کی جانب سے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد مارچ کے شروع میں خام تیل کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیرل تک کی بلند سطح پر پہنچ گئیں تھیں۔یوکرین پر حملے کے بعد یہ خدشات پیدا ہوگئے تھے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیوں سے سپلائی میں نمایاں کمی آئے گی جب کہ ماسکو دنیا میں تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے والے بڑے ممالک میں شامل ہے ۔یو بی ایس بینک کے کموڈٹیز تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تاجر اب مختلف عوامل کی وجہ سے طلب کے بارے میں خدشات کا شکار ہیں، ان کے تحفظات میں کساد بازاری کا خوف، ڈالر کی قیمت میں استحکام اور کووِڈ19 لاک ڈاؤن کے دوران چینی تیل کی درآمدات میں کمی جیسے عوامل شامل ہیں کیونکہ تیل کی قیمتیں ڈالر میں طے کی جاتی ہیں اس لیے اس کی قمیت میں اضافے سے دیگر کرنسیوں میں درآمد کنندگان کے لیے پیٹرول مزید مہنگا ہوجاتا ہے ۔اشیا کی طلب و رسد اور ان کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے ایک اور سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ جولائی میں خام درآمدات کی پروسیسنگ کمزور ہونے کے باعث چین میں تیل کی طلب متاثر ہوئی، اگرچہ اب بھی ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں۔عالمی بینچ مارک برینٹ کی قیمت 95 ڈالر کی سطح تک گر گئی ہے ، مرکزی امریکی کنٹریکٹ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً 90 ڈالر پر ہے جب کہ امریکا میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قیمتیں بھی نیچیں آگئی ہیں۔یو بی ایس بینک کے کموڈٹیز تجزیہ کار کا مزید کہنا ہے کہ یو بی ایس توقع کرتا ہے کہ سال کے آخر تک برینٹ کی قیمتیں تقریباً 125 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ روس کی برآمدات میں کمی، چینی درآمدات میں اضافہ اور مغربی ممالک کی جانب سے اپنے اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال ترک کرنا قیمتوں میں اس اضافے کی وجوہات بن سکتی ہیں۔