وائس چانسلر پر اراضی واپس لینے پر زور، عثمانیہ یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن کا ردعمل
حیدرآباد۔25۔مئی ۔(سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ کیمپس میں موجود پروفیسر کوارٹرس کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ’’آدی دھونی ‘‘ ٹرسٹ کو لیز پر دئیے جانے کی جامعہ عثمانیہ ٹیچرس اسوسیشن کی جانب سے مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلہ کو واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جانے لگا ہے۔ جامعہ عثمانیہ ٹیچرس اسوسیشن کے ذمہ دارو ںنے وائس چانسلرپروفیسر ایم کمار کو روانہ کردہ مکتوب میں یونیورسٹی کے اس فیصلہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی ایک انچ زمین بھی کسی کو لیز پر دینے یا فروخت کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا خواہ صورتحال کچھ بھی ہو۔ اسوسیشن نے یونیورسٹی کی اراضیات و املاک کے متعلق جسٹس چنا پا ریڈی کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جو مکتوب روانہ کیا ہے اس مکتوب میں یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹرسٹ کو 30سال کی لیز پر حوالہ کئے گئے دو کوارٹرسP2اورP3 واپس حاصل کئے جائیں۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں موجود 2 پروفیسر کوارٹرس کو ’’آدی دھونی‘‘ٹرسٹ کو سالانہ 12ہزار روپئے کی لیز پر حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور 2کوارٹرس جو کہ قریب ایک ایکڑ پر محیط ہیں ان کے ذریعہ یونیورسٹی کو سالانہ 24ہزار روپئے کی آمدنی متوقع ہے۔ ٹیچرس اسوسیشن نے وائس چانسلرسے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر لیز کے اس معاہدہ کو منسوخ کیا جائے کیونکہ یہ فیصلہ جامعہ عثمانیہ کے حق میں نہیں ہے اور سابق میں جسٹس چناپا ریڈی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ جامعہ عثمانیہ کی اراضی کو کسی بھی خانگی ادارہ یا ٹرسٹ یا کسی اور کے حوالہ نہ ہی کرایہ پر دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی لیز پر جائیداد حوالہ کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔پروفیسر بی منوہر صدر جامعہ عثمانیہ ٹیچرس اسوسیشن نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیا جانے والا یہ فیصلہ جامعہ کے حق میں نہیں ہے کیونکہ مذکورہ کوارٹرس جامعہ عثمانیہ میں خدمات انجام دینے والے تدریسی عملہ بالخصوص پروفیسر س کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔اگر اسی طرح کے فیصلوں کے ذریعہ جامعہ کی اراضی اور جائیدادوں کو ٹرسٹ یا خانگی تنظیموں کے حوالہ کیا جانے لگے تو ایسی صورت میں یہ جامعہ عثمانیہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا اور طلبہ کے تعلیمی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔3
عثمانیہ یونیورسٹی کا خصوصی اعلامیہ
حیدرآباد ۔ 25 مئی (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی نے ایک خصوصی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے سال 2000 اور 2015ء کے درمیان داخلہ حاصل کرنے والے انڈر گریجویٹ طلبہ کیلئے جن کے بیاک لاگ پیپرس زیرالتواء ہیں، امتحان میں شرکت کیلئے ایک موقع کی پیشکش کی ہے۔ اس کیلئے فیس ادا کرنے کی آخری تاریخ 19 جون ہے۔ تفصیلات کیلئے دیکھیں www.osmania.ae.in