آئندہ چند ہفتوں میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کا منصوبہ ۔ فضلہ کو ذخائر آب میں پہونچنے سے روکا جائے گا
حیدرآباد 4 اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے دونوں شہروں کے مختلف علاقوں کو آبی سربراہی کیلئے مستعمل دونوں تاریخی ذخائر آب عثمان ساگر و حمایت ساگر کے تحفظ کے اقدامات کا آغاز کرکے ان تک پہنچنے والے پانی کو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کے ذریعہ محفوظ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ان STPs کی تعمیر کیلئے ٹنڈر طلب کرکے فضلہ کو روکنے اقدامات کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ذخائر آب میں جمع پانی کو گندگی سے بچانے اس فیصلہ کا مقصد دونوںذخائر آب کے اطراف تعمیر فارم ہاؤز اور دیگر تعمیرات سے خارج ہونے والے فضلہ کو حمایت ساگر اور عثمان ساگر تک پہنچنے روکنا ہے ۔ حکومت کو عہدیدارو ںکی رپورٹ کے مطابق دونوں ذخائر آب کو گندگی سے بچانے فوری اقدامات درکار ہیں کیونکہ اگر ان ذخائر آب کو فوری محفوظ بنانے اقدامات نہیں کئے گئے تو یہ ذخائر آب آئندہ چند برسوں میں ناقابل استعمال ہوجائیں گے اسی لئے ان کے اطراف تعمیرات سے خارج ہونے والے فضلہ کو ان ذخائر آب تک پہنچنے سے روکنا ضروری ہے۔ محکمہ آبرسانی کے مطابق اگر ان STPs کی تعمیر نہیں کی گئی تو عثمان ساگر میں موجود 97 ملین لیٹر پانی اور حمایت ساگر میں موجود 36ملین لیٹر پانی ناقابل استعمال ہوجائے گا۔ حکومت نے اطراف میں 4 سیوریج ٹریٹمنٹ پلان کی تعمیر کیلئے 65 کروڑ خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ دونوں ذخائر آب کو محفوظ رکھا جاسکے۔ حکومت سے اندرون 9ماہ ان 4STPs کی تعمیر کا نشانہ ہے اور ہدایت دی گئی کہ اندرون 9ماہ ان تعمیرات کو مکمل کرکے کارکرد بنایا جائے ۔منصوبہ کے مطابق مجوزہ 4 ایس ٹی پی کے ذریعہ یومیہ 20لاکھ ملین لیٹر پانی کی صفائی کے ذریعہ اسے ذخائر آب میں چھوڑا جائے گا ۔محکمہ آبرسانی کے مطابق عثمان ساگر کیلئے دو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کیلئے جنواڑہ اور حمایت نگر میں جگہ کی نشاندہی کرلی گئی جبکہ حمایت ساگر میں پہنچنے والے پانی کی صفائی کیلئے نشاندہی کردہ دو مقامات میںناگی ریڈی گوڑہ اور کمونی نالہ شامل ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹنڈر شرائط میں تعمیر کا ٹھیکہ پانے والی کمپنی کو ان STPs کی دو سال نگرانی اور ان کے امور دیکھنے ہوں گے۔حکومت سے ان تعمیرات کی منظوری پر آبرسانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے پانی کو گندگی سے بچانے ان ایس ٹی پیز کی تعمیر کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ شہر کے جن علاقوں کو دونوں ذخائر آب سے پانی کی سربراہی کی جاتی ہے ان میں محفوظ پانی سربراہ کرنے کا سلسلہ جاری رہ سکے اور دونوں ہی ذخائر آب جو کہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔3