عدالت ثالثی کے فیصلے میں ترمیم کر سکتی ہیں: سپریم کورٹ

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج ایک اہم فیصلے میں کہا کہ عدالت ثالثی کے فیصلے میں ترمیم کر سکتی ہیں۔چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ 4:1 کی اکثریت سے دیا۔عدالت کا 190 صفحات پر مشتمل فیصلہ 20 فروری 2024 کو تین ججوں کی بنچ کے ذریعہ اس معاملے کے حوالے سے آیا تھا۔چیف جسٹس کھنہ اور جسٹس بی آر گوائی، سنجے کمار اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح نے کہا کہ عدالت کے پاس ثالثی اور مفاہمت ایکٹ 1996 کے سیکشن 34 اور 37 کے تحت ثالثی فیصلوں میں ترمیم کرنے کا محدود اختیار ہے ۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ چیف جسٹس نے تحریر کیا۔ جسٹس گوائی، جسٹس کمار اور جسٹس مسیح نے ان کے فیصلے کی حمایت کی، جبکہ جسٹس کے وی وشواناتھن نے اختلافی فیصلہ سنایا۔