دہلی کی ایک عدالت نے ہفتہ کو عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین کی فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو ریلیف دینے کے لیے کافی بنیاد نہیں ہے۔ عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی گذارشات کو قبول کیا کہ ملزم کے خلاف ریکارڈ پر کافی مواد موجود ہے اور اس کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنایا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر نے یہ بھی دلیل دی کہ یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی شواہد اور گواہ موجود ہیں کہ ملزم فسادات کی فنڈنگ میں ملوث تھا۔ ملزمان نے دیگر ملزمان کو ہنگامہ آرائی اور اسلحہ خریدنے کے لیے پیسے دیے۔ وکیل دفاع نے درخواست ضمانت میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف منی لانڈرنگ کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا ہے۔