تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلٹس فیڈریشن کی ایوارڈ تقریب، محمد علی شبیر، اسدالدین اویسی اور دوسروں کا خطاب
محمد نعیم وجاہت کی صحافتی خدمات پر ایوارڈ
حیدرآباد ۔ 10 مئی (سیاست نیوز) سینئر اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست محمد نعیم وجاہت کو ان کی نمایاں صحافتی خدمات کے صلہ میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلٹس فیڈریشن کی جانب سے حبیب علی الجیلانی ایوارڈ عطا کیا گیا۔ پریس کلب بشیرباغ میں منعقدہ ایک باوقار تقریب میں ممتاز شخصیتوں اور صحافیوں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں حکومت تلنگانہ کے مشیر برائے اقلیتی امور جناب محمد علی شبیر، صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین اویسی، صدرنشین تلنگانہ میڈیا اکیڈیمی کے سرینواس ریڈی، سابق صدر میڈیا اکیڈیمی ڈی امر، سابق صدرنشین اقلیتی کمیشن قمرالدین، خواجہ وراحت علی صدر تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس، ڈاکٹرمصطفی علی سروری، ایم اے ماجد صدر فیڈریشن، سید غوث محی الدین جنرل سکریٹری سٹی فاونڈیشن کے سربراہ محمد بشارت اور ممتاز صحافی فاروق ارگلی نے شالپوشی کرکے انہیں توصیف نامہ اور مومنٹو پیش کیا۔ اس موقع پر فیڈریشن کی جانب سے نعیم وجاہت کی 28 سالہ صحافتی زندگی پر روشنی بھی ڈالی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ تمام اردو صحافیوں کو ایک مقام پر دیکھ کر کافی خوشی ہوئی جو اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعہ عوام میں شعور بیداری کا غیرمعمولی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے اردو صحافیوں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہمارے دشمن ملک پاکستان کے خلاف کئے گئے سندور آپریشن سے متعلق اردو صحافیوں کو عوام تک صحیح معلومات فراہم کرنا چاہئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں ہماری فوج پر فخر ہے۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ صحافت کو اور صحافیوں کو اس کا مقام دلانا اردو کاز کیلئے بہت اہم ہیں۔ ہمارا دستور 22 زبانوں کو تسلیم کرتا ہے جس میں اردو زبان بھی شامل ہے۔ ملک میں 121 زبانیں ایسی ہیں جنہیں 4 سے 10 ہزار لوگ بولتے ہیں۔ ہماری سرحدوں پر پاکستان کی طرف سے دہشت گردانہ حملے بھی ہورہے ہیں۔ سرحدی علاقوں پر پاکستان ڈرونس حملے کررہا ہے۔ پونچھ میں 16 لوگوں کی موت ہوئی۔ راجوری کے اے ڈی سی تھاپا کی موت ہوئی ہے۔ پونچھ میں ایک عالم کی بھی موت ہوئی۔ گردوارہ پر بھی حملہ ہوا ہے۔ ہم تمام کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔ جناب وراحت علی نے کہا کہ ٹی یو ڈبلیو جے سے ملحقہ فیڈریشن اردو صحافیوں کی غیرمعمولی انداز میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ جناب ڈی امر نے کہا کہ تلنگانہ تلگو ریاست نہیں بلکہ ایسی ریاست ہے جہاں تلگو اور اردو بولی جاتی ہیں۔ انہوں نے گلزار کے ایک شعر کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی۔ مقررین نے اردو کو اتحاد و یکجہتی کی زبان قرار دیا۔ اس موقع پر فیض محمد اصغر اور تبسم فریدی یادگار ایوارڈس بھی پیش کئے گئے۔ ایوارڈس پانے والوں میں محمد عبداللہ اسد سیاست ٹی وی کریم نگر، یاسر شکیل، وحید گلشن، علیم اسٹائل، افتخار علی، واجد، شاہد احمد توکل، سینئر این آر آئی صحافی کے این واصف شامل ہیں۔ جناب حبیب الجیلانی مرحوم کو بعدازمرگ کارنامہ حیات ایوارڈ عطا کیا گیا۔