عوامی مسائل پر اولین توجہ، نلگنڈہ میں مستحقین کو ڈبل بیڈروم مکانات کی فراہمی کا مطالبہ، ٹی آر ایس حکومت پر تنقید
نلگنڈہ۔ 11؍دسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ مجھے عہدوں کی ضرورت نہیں ہے، میرے گلے میں کانگریس پارٹی کی رومال ہی کافی ہے۔ مجھے عہدوں اور وزارت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، آئندہ ماہ سے حلقہ اسمبلی نلگنڈہ میں قیام کروں گا۔ چیف منسٹر حلقہ کو اپنانے کا اعلان کیا۔ سڑکوں کی توسیع اور تصاویر آویزاں کرنے سے ترقی نہیں ہوتی، تمام مستحقین کو مکانات کی فراہمی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر کانگریس قائد و رکن پارلیمنٹ بھونگیر کے وینکٹ ریڈی نے آج اپنے دورہ نلگنڈہ کے موقع پر اپنے کیمپ آفس میں صحافتی کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے دریافت کیا کہ ضلع نلگنڈہ کے معرض التواء پراجکٹوں کی تکمیل کے لئے بجٹ کیونکر فراہم نہیں کیا جارہا ہے۔ اے ایم آر پی پراجکٹ میں آبپاشی کے لئے آبی سربراہی عمل میں لانے کے مطالبہ کو حکمرانوں نے نظر انداز کردیا ہے۔ ٹی آر ایس پارٹی نام کو تبدیل کرتے ہوئے نام سے تلنگانہ کو ہی نکال دیا ہے، یہ تلنگانہ کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انھوں نے آندھرائی قائدین کی جانب سے متحدہ آندھرا پردیش کی بات کرنا نامناسب ہے۔ قائدین ایسے گمراہ کن بیانات سے باز آجائیں۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ حلقہ میں 2 ہزار مکانات کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا، لیکن تعمیراتی کاموں میں تساہلی کی جارہی ہے۔ مستحقین کو ڈبل بیڈروم مکانات کی فراہمی میں آکر ناانصافی ہوئی تو وہ احتجاج منظم کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حلقہ سے میرا گہرا تعلق ہے، میں نے یہاں سے 2004ء میں گنا سکھیندر ریڈی کو شکست دی تھی اور آئندہ ماہ سے حلقہ کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ یہاں سے اسمبلی کے لئے انتخاب میں بھی حصہ لوں گا۔ مسٹر کے وینکٹ ریڈی نے کہا کہ الیکشن سے ایک ماہ قبل ہی کوئی سیاسی بیان یا فیصلہ کیا جائے گا۔ بی سی سی کمیٹی سے متعلق استفسار پر بتایا کہ میں نے وزارت کے عہدہ کی پرواہ کئے بغیر مستعفی ہوا ہوں اور عہدوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، عہدے خود بخود حاصل ہوتے ہیں، عوام کے درمیان میں رہتے ہوئے ان کے مسائل کی یکسوئی ہی میری ترجیح ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نلگنڈہ میں میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی اپنے فاؤنڈیشن کی جانب سے تعاون کرتے رہوں گا، ان کو ہر طرح کی سہولتوں کی فراہمی کی کوشش کروں گا۔ اس موقع پر ٹاؤن صدر کانگریس جی موہن ریڈی، محمد امتیاز حسین، رکن بلدیہ محمد امتیاز و دیگر موجود تھے۔