گورکھپور،29 مئی (یواین آئی )اتر پردیش کے ضلع گورکھپور سے ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے جس نے سوشل میڈیا پر بحث چھیر دی ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے ۔ جہاں ملک میں گائے کے تحفظ اور ذبیحہ کو لے کر اکثر سیاسی و سماجی تنازعات سر اٹھاتے رہتے ہیں اور گئو رکشکوں کو کھلی غنڈہ گردی کا موقع ملتا رہا ہے وہیں ایک مسلم نوجوانوں نے اس حساس معاملے پر ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق، عید الاضحیٰ کے موقع پر گورکھپور کے بہرام پور میں واقع عیدگاہ میں نماز کی ادائیگی کے بعد ایک نوجوان ہاتھوں میں بینر لیے نمودار ہوا۔ اس نوجوان کی شناخت شمیم ڈائمنڈ کے نام سے ہوئی ہے ، جو تیواری پور تھانہ علاقے کے داؤد چک کا رہائشی بتایا جاتا ہے ۔شمیم ڈائمنڈ نے نماز پڑھ کر باہر نکلنے والے عقیدت مندوں سے اپیل کی کہ وہ گائے کو ‘قومی جانور’ (نشنل اینیمل) قرار دینے کی ان کی مہم کی حمایت کریں۔ ان کے ہاتھ میں موجود بینر پر بھی یہی مطالبہ درج تھا۔ عیدگاہ کے باہر یہ منظر عام لوگوں اور راہگیروں کے لیے توجہ کا مرکز بن گیا۔موقع پر موجود افراد نے اس انوکھی پہل کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں، جس کے بعد یہ معاملہ تیزی سے شہ سرخیوں میں آ گیا۔