نئی دہلی: اردو، فارسی کے مستند و معروف شاعر مرزا اسد اللہ خاں کا 225واں یوم ولادت پورے ملک میں بڑے خلوص و محبت سے منایا گیا۔ اس موقع پرغالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے اپنے پیغام میں کہا کہ غالب اردو شاعری کی سب سے بڑی شناخت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہمارا ادبی سرمایہ ثروت مند ہوا اور ہم عالمی پیمانے پر اپنے ادب کو سرخ روئی کے ساتھ پیش کرنے کے قابل ہوئے ۔ میری خواہش ہے کہ نئی نسل غالب کا نام صرف فیشن کے طور پر نہ لے بلکہ اس کے اصل جوہر سے بھی واقف ہو۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر نے کہا کہ میں گذشتہ 35 سال سے مزار غالب پر حاضر ہوتا رہا ہوں۔ میں نے مزار غالب کو خستہ حالت میں بھی دیکھا ہے اور اس کو واگزار کرانے کی مہم میں بھی شریک رہا ہوں۔