غزہ معاہدہ ملتوی کرنے کا اسرائیل کے پاس اب کوئی عذر نہیں

   

امریکی صدر بائیڈن کا نیتن یاہو کو پیغام، 15 اگست سے جنگ بندی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اسرائیل رضامند

تل ابیب: اسرائیلی اخبار ’’ یدیعوت احرونوت ‘‘ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو آگاہ کیا ہے کہ غزہ معاہدہ کو ملتوی کرنے کا اب کوئی بہانہ نہیں ہے۔ مصر، قطر اور امریکہ کے بیان کے بعد غزہ میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے اسرائیلی رہنماؤں اور نیتن یاہو سے معاہدہ مکمل کرنے اور یرغمالی افراد کو واپس لانے کا مطالبہ کا اعادہ کیا ہے۔اسرائیل نے 15 اگست کو ثالثی کرنے والے ممالک قطر، مصر اور امریکہ کی درخواست پر غزہ پٹی میں جنگ بندی پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ رضامندی کا یہ اعلان یاہو کے دفتر نے جمعرات کو کیا۔حماس کے زیر کنٹرول غزہ پٹی میں شہری دفاع نے جمعرات کو بتایا کہ دو اسکولوں پر اسرائیلی بمباری میں کم از کم 18 افراد مارے گئے ہیں۔ 7اکتوبر سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 39699 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ ایران نے اسرائیل پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کو بڑھانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ایران کی جانب سے تہران میں 31 جولائی کو حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کا جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے جس کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی سے بچنے کیلئے تمام اطراف میں سفارتی کوششیں کی جارہی ہیں اور کشیدگی کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا جا رہا ہے۔جمعرات کو امریکہ، قطر اور مصر کے رہنماؤں نے اسرائیل اور حماس پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر اختلافات کو دور کرنے کیلئے اگلے ہفتے دوحہ یا قاہرہ میں مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ ایک مشترکہ بیان میں ثالثوں نے تنازعہ کے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ 15 اگست کو مذاکرات دوبارہ شروع کریں تاکہ باقی رہ جانے والے خلا کو پْر کیا جا سکے اور بغیر کسی تاخیر کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوسکے۔امیر قطر اور امریکی و مصری صدور کے دستخط شدہ متن میں کہا گیا ہے کہ فریم ورک معاہدہ اب میز پر ہے اور اس پر عمل درآمد کی تفصیلات کو حتمی شکل دینا باقی رہ گیا ہے۔ ہم ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اگر ضروری ہو تو عمل درآمد سے متعلق باقی معاملات کو طے کرنے کیلئے حتمی تجویز بھی پیش کی جا سکتی ہے۔بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ معاہدہ اگلی جمعرات کو ہی دستخط کیلئے تیار ہو جائے گا۔ ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ کئی مہینوں سے قطر مصر اور امریکہ کی حمایت سے پردے کے پیچھے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ مذاکرات غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔جنگ کا متوقع خاتمہ ایک عبوری معاہدے کے گرد گھومتا ہے جو ابتدائی جنگ بندی سے شروع ہوتا ہے۔ حالیہ مذاکرات میں مئی کے آخر میں امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ فریم ورک پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس فریم ورک کو بائیڈن نے اسرائیلی تجویز کے طور پر بیان کیا تھا۔ تازہ ترین فریم ورک معاہدہ صدر بائیڈن کے پیش کردہ اصولوں پر مبنی ہے۔