غزہ کیلئے نئی تجویز: 5زندہ قیدیوں کے عوض دو ہفتوں کی جنگ بندی

   

تل ابیب: اسرائیلی انٹلیجنس ایجنسی شاباک کے سربراہ نے اتوار کے روز قاہرہ کا دورہ کیا اور مصری انٹلیجنس کے سربراہ سے ملاقات کی۔ اس کے بعد غزہ کی پٹی میں فائر بندی کیلئے کی باتیں دوبارہ سے سامنے آ رہی ہیں۔اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ شام اسرائیلی کابینہ میں ایک نیا معاہدہ پیش کیا گیا جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کی تجویز شامل ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار “معارف” نے بتائی۔اخبار کے مطابق بات چیت میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ غزہ میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کے مقابل 5 اسرائیلی قیدیوں کو زندہ رہا کیا جائے۔اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ، وزیر خارجہ یسرائیل کاتز اور وزیر انصاف یارف لیون نے اس تجویز کی حمایت کی جب کہ وزیر خزانہ بتسلیل سموترچ اور قومی سلامتی کے وزیر ایتمار گوئیر کی جانب سے اس تجویز کی مخالف سامنے آئی۔اس سے قبل اتوار کی شام قاہرہ میں ہونے والی ملاقات میں اسرائیلی اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہان نے قیدیوں سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے بات چیت کی۔اس موقع پر شاباک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو دوبارہ زندہ کرنے کا موقع ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ axios نے بتائی۔گذشتہ ہفتے حماس کے سربراہ یحیی السنوار کی ہلاکت کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔السنوار کی ہلاکت کے بعد حماس تنظیم اعلان کر چکی ہے کہ فائر بندی کے معاہدے اور غزہ پٹی سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بغیر قیدی ہر گز واپس نہیں جائیں گے۔ اس اعلان سے اسرائیلی حلقوں میں اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یحیی السنوار کی جگہ اس کے بھائی محمد السنوار کو حماس کا سربراہ مقرر کیے جانے اور قیدیوں کا معاملہ اس کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں معاملہ بڑی حد تک پیچیدہ ہو جائے گا۔اسرائیل اور حماس کی جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو معاہدہ کرنے کیلئے اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔