غیر مجاز تعمیر کردہ فلیٹس اور مکانات کی رجسٹری روک دینے کا امکان

   

ایچ ایم ڈی اے اور جی ایچ ایم سی حدود میں غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی
حیدرآباد۔31اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں غیر مجاز تعمیر کئے جانے والے فلیٹس اور مکانات کی رجسٹری روک دی جائے گی!حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی حکمت عملی کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور حیدرآباد میٹرو پولیٹین اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں کی جانے والی غیر مجاز اور غیر قانونی تعمیرات کی فروخت کو روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور جن جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے انہیں فوری طور پر منہدم کرنے کے بجائے ان کے متعلق تمام تفصیلات محکمہ مال کو روانہ کرتے ہوئے ان جائیدادوں کی دوسرے مالکین کو منتقلی اور رجسٹریشن کو روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے عرصۂ دراز سے تیار کئے جانے والے اس منصوبہ کے متعلق عہدیداروں نے بتایا کہ اب جی ایچ ایم سی حدود میں غیر مجاز اور غیر قانونی تعمیرات کی خرید و فروخت ممکن نہیں رہے گی کیونکہ جن جائیدادوں کے منظورہ منصوبہ اور فلیٹس کی تعداد کے علاوہ دیگر سہولتوں کی فراہمی کی تفصیلات جی ایچ ایم سی کے پاس موجود ہوں گی وہی فلیٹس اور مکانات کے علاوہ جائیدادوں کی خرید و فروخت ممکن ہوپائے گی جبکہ جن جائیدادوں پر منظورہ منصوبہ اور اجازت نامہ سے انحراف کرتے ہوئے تعمیرات انجام دی گئی ہیں یا پھر بغیر اجازت تعمیرات کی جا چکی ہیں ان تعمیرات کو رجسٹری سے روکنے کیلئے محکمہ مال کے عہدیداروں سے مشاورت کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ ریاستی محکمہ بلدی نظم و نسق کی سطح پر کئے جانے والے اس فیصلہ کے متعلق کہا جا رہاہے کہ محکمہ مال اور محکمہ بلدی نظم و نسق اس سلسلہ میں جلد ہی ایک مشترکہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے فیصلہ کرے گا کہ بغیر اجازت یا منصوبہ سے انحراف کرتے ہوئے تعمیر کی جانے والی جائیدادوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے شہر میں بغیر اجازت تعمیر کی جانے والی عمارتوں کی تفصیلات اور ان کے خلاف کی گئی کاروائی کے سلسلہ میں تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے بتایا جاتا ہے کہ محکمہ بلدی نظم و نسق اور محکمہ مال کی جانب سے ان جائیدادوں کی خرید و فروخت سے عوام کو باز رکھنے کیلئے جلد ہی ان جائیدادوں کی تفصیلات کو جاری کردیا جائے گا تاکہ لوگ بغیر اجازت تعمیر کی گئی عمارتوں کو خریدنے سے باز رکھنے کیلئے اعلان عام اور عوام الناس کیلئے نوٹس جاری کی جائے گی تاکہ انہیں چوکنا کیا جائے اور غیر مجاز اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔