فاروق ۔ انہوں نے مسعود کو رہا کیا اور پھر بھی وہ قوم پرست ہیں

,

   

نیشنل کانفرنس کے لیڈر نے کہاکہ مرکز نے 1999میں جیش کے سرغنہ کی رہائی کے خلاف ان کی تجویز کو قبول نہیں کیاتھا

نئی دہلی ۔نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز 1999میں اس وقت کی بی جے پی حکومت کے ہاتھوں جیش کے بانی مسعود اظہر کی افغان میں رہائی کے متعلق سوال کھڑا کرتے ہوئے کہاکہ ہائی جیک کی گئی IC-814ائیرلائنس کے بدلے مسعود کی رہائی کی انہوں نے مخالفت کی تھی مگر ان کی بات کو پوری طرح نظر انداز کردیاگیا۔

انہوں نے سختی کے ساتھ جماعت اسلامی پر امتناع کی مخالفت اور کہاکہ یہ وقت امتناعات عائد کرنے کا نہیں بلکہ مذکورہ تنظیموں سے بات چیت شروع کرنے کا ہے۔

یہاں پر ایک تقریب کے بعد رپورٹرس سے با ت کرتے ہوئے 1999میں جموں کشمیر کے چیف منسٹر رہے فاروق عبداللہ نے کہاکہ ’’ اظہر کوکس نے رہا کیا اور اس کو قندھار( افغانستان) کون لے کر گیا؟۔مرکز اس کو جواب دے۔ جب میں نے کہاکہ اظہر کو رہا مت کرو‘ ( اس وقت ) انہوں نے میری نہیں سنی۔

آج میں ملک کا غدار او روہ قوم پرست بن گئے ہیں‘‘۔جنوبی کشمیر اننت ناگ ضلع کے کھانا بال چوک سے 11فبروری 1994کے روز اظہر کو گرفتار کیاگیاتھا مگر اس کو 31ڈسمبر1999کے روز ائی سی814میں موجود مسافرین کی رہائی کے عوض میں رہا کردیاگیاتھا۔

اظہر کے ساتھ دیگر دو دہشت گرد بھی رہائی میں شامل تھے۔جماعت اسلامی پر امتناع کے متعلق پوچھنے پر عبداللہ نے کہاکہ ’’ امتناعات کوئی راستہ نہیں ہیں کیونکہ جس وقت آپ امتناع عائد کریں گے وہ انڈر گروانڈ چلے جائیں گے اور خطرناک ثابت ہونگے۔

اب جو وقت ہے وہ امتناع کا نہیں ہے‘ سیاسی طور پر ان سے ملاقات کریں جو کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جب تک سیاسی طور پر ان سے ملاقات نہیں کریں گے اس کا حل نہیں نکل سکتا‘‘۔

مخالف دہشت گردی قانون کے تحت پچھلے ہفتہ مرکز نے جموں کشمیر جماعت اسلامی پر امتناع عائد کردیاتھا کیونکہ اس کو دہشت گرد تنظیموں سے’’ قریبی تعلق‘‘ تھا اور توقع تھی کہ وہ ریاست میں ’’ علیحدگی پسندی کی تحریک کو آگے لے کر جائے گی‘‘۔

جمعرات کے روز جموں میں گرانائیڈ حملے کرنے والی تنظیم حزب المجاہدین کے متعلق سوال پوچھنے پر عبداللہ نے کہاکہ’’ میں نہیں جانتا ہے۔ میں چیف منسٹر رہاہوں اور میرے پاس جماعت اسلامی کے کسی سے تعلق کی کوئی خفیہ جانکاری نہیں تھی۔

میں سمجھتاہوں یہ لوگ جنھوں نے گرنائیڈ حملہ کیاہے اس کو صلاح الدین مقبوضہ کشمیر کے علاقے سے چلاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس گرنائیڈ حملے میں دولوگوں کی موت اور 31لوگ زخمی ہوئے تھے