پیرس: فرانس کے ایک سینئر مقامی اہلکار کا کہنا ہے کہ تباہ کن طوفان میں سینکڑوں یا ممکنہ طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ فرانسیسی حکومت نے متنبہ کیا ہے کہ فی الوقت درست اعداد و شمار کا تعین ممکن نہیں۔فرانس کے بحر ہند کے علاقے میں واقع جزیرے مایوٹ میں آنے والے طاقتور طوفان نے جو تباہی مچائی، اس سے مایوٹ کے سمندر پار فرانسیسی خطے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔سائیکلون شیڈو کے دوران اس علاقے میں 225 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں، جن سے وہاں بیشتر بستیاں زمین بوس ہو گئیں۔ اس سے عارضی پناہ گاہوں میں رہنے والے غریب انسان خاص طور پر متاثر ہوئے۔فرانس سے آنے والی کمک سمیت امدادی کارکن ملبے کے نیچے دبے زندہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔اطلاعات کے مطابق طوفان سے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور بجلی کے کھمبوں کے گرنے اور ٹوٹی سڑکوں کے سبب ہنگامی کارروائیوں میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔فرانس کے ایک سینیئر اہلکار فرانسوا بییووِل نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ’’میرے خیال میں یقینی طور پر کئی سو تک ہو گی، شاید ہم ایک ہزار تک کہہ سکتے ہیں، یا اس سے بھی زیادہ، یہ کئی ہزار تک بھی پہنچ سکتی ہے۔‘‘ادھر فرانسیسی وزارت داخلہ نے یہ کہتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فی الوقت ’’تمام متاثرین سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنا مشکل ہے۔‘‘سائیکلون شیڈو ہفتے کے روز مایوٹ سے ٹکرایا تھا۔ مقامی محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گزشتہ 90 سالوں میں یہ بحر ہند کے جزیرے مڈغاسکر سے ٹکرانے والا سب سے طاقتور طوفان تھا۔فرانس کی نئی حکومت نے ہفتے کے روز ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور 200 سے زائد امدادی کارکنوں اور فائر فائٹرز کو اس سمندر پار جزیرے کی طرف روانہ کیا۔مایوٹ تین لاکھ 20 ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس آبادی میں سے کچھ کو خوراک، پانی اور رہائش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔