فضائی فوجی طاقت کے معاملہ میں امریکہ کو دنیا پر سبقت

   

13032 جنگی طیارے، روس، چین اور ہندوستان بھی طاقتور فضائیہ کی فہرست میں شامل
حیدرآباد 12 مئی (سیاست نیوز) مغربی ایشیاء میں جنگ کی صورتحال کے دوران دنیا بھر کے دفاعی ماہرین مختلف ممالک کی فضائی طاقت کے بارے میں مختلف اندازے قائم کررہے ہیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں سے اِس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے بڑی فضائی فوجی طاقت ہے۔ فضائی فوجی طاقت کے اعتبار سے جن 10 ممالک کی فہرست تیار کی گئی اُن میں ہندوستان چوتھے نمبر پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال فضائی فوجی طاقت کے مظاہرہ میں امریکہ نے بھرپور جنگی طیاروں کا استعمال کیا اور امریکہ کے پاس جنگی طیاروں کی تعداد 13032 ہے۔ دنیا کے سپر پاور بننے بننے کا خواب دیکھنے والے ممالک نے زمینی افواج کے ساتھ ساتھ بحری اور فضائی طاقت میں اضافہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ روس 4237 جنگی طیاروں کے ساتھ دوسرے اور چین 3529 جنگی طیاروں کی طاقت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان کے پاس جنگی طیارے 2183 ہیں اور وہ ساؤتھ کوریا، جاپان، پاکستان، ترکی، مصر اور فرانس جیسے ممالک سے آگے ہے۔ جنگ کی صورت میں فضائیہ کا رول ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ زمینی افواج کی پیشقدمی میں فضائیہ کی کارروائیوں سے بڑی حد تک مدد ملتی ہے۔ امریکہ، اسرائیل کی ایران سے جنگ کے دوران دنیا کو فضائیہ کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ ہزاروں کیلو میٹر کا فاصلہ منٹوں میں طے کرتے ہوئے فضائیہ نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ فضائی جنگی طاقت کے حامل 10 ممالک میں ایران شامل نہیں ہے لیکن اُس نے اسرائیل کی اہم تنصیبات کے علاوہ خلیجی ممالک میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بناتے ہوئے اپنی مخفی فوجی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج، بحریہ اور فضائیہ تینوں شعبہ جات میں ہندوستان نے عصری ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دی ہے اور فضائیہ کی طاقت کا اندازہ حال ہی میں پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کے دوران ہوا۔V/1