یروشلم : مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا کے ایک گاؤں جنبا سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون نجاح جبارین اپنے 17 افراد پر مشتمل کنبے کے ساتھ ایک پرانے غار میں رہائش پذیر ہیں۔ اس گھرانے نے غار کو باورچی خانے ، بیٹھنے اور سونے کی مشترکہ جگہ ، بچوں کے کھیلنے کی جگہ اور ذخیرہ اندوزی کی جگہ میں تقسیم کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں غار کے گرد دو چھوٹے کمرے بھی بنا رکھے ہیں۔ تاہم اس گھرانے کے لیے زندگی بہت دشوار ہو گئی ہے۔اس غار میں دھوپ کا کوئی گزر نہیں اور ساتھ ہی وہاں سے غیر صحت مند بْو بھی آتی رہتی ہے۔ دو چھوٹے کمرے اتنے بڑے کنبے کیلئے کافی نہیں لہٰذا غار میں رہنا نا گزیر ہے۔جنبا گاؤں اس علاقے میں اْن 22 چھوٹے رہائشی کمپاؤنڈز میں سے ہے جن کو اسرائیل ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دے چکا ہے۔ سال 1980ء سے یہاں عمارتوں کی تعمیر پر پابندی ہے۔علاقے کے بعض لوگ کوچ کر جانے اور متبادل جگہ کی تلاش پر مجبور ہو گئے۔ تاہم بقیہ لوگ علاقے میں اپنی روزی روٹی کے ذرائع کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی زرعی زمین اور مویشی ہیں۔جنبا گاؤں کی آبادی 10 ہزار نفوس پر مشتمل ہے تاہم اب یہاں محض چند درجن افراد رہتے ہیں۔