اے آئی پی ایس او کا احتجاجی جلسہ، پروفیسر کودنڈا رام اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔7جولائی(سیاست نیوز) فلسطینی عوام پر جاری ظلم وجبر کے خلاف آواز اٹھانے کا وقت آگیا ہے ۔ اگر اسرائیل کو ملک تسلیم کیاگیا جاسکتا ہے تو فلسطین کے لئے بھی ریاست کا درجہ ناگزیر ہے ۔فلسطین کے قیام تک مشرق وسطیٰ میںامن کا قیام ممکن نہیںہے۔ ہندوستانی عوام بالخصوص تلنگانہ کے عوام کا فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ ہر وقت اظہار یگانگت رہا ہے اور جب تک فلسطینی عوام کو ان کا حق نہیںمل جاتا اسرائیلی بربریت کے خلاف ہم آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ آل انڈیا پیس اینڈ سالیڈرائٹی آرگنائزیشن ( اے آئی پی ایس او) کے زیراہتمام فلسطین میںاسرائیل کی جاری بربریت کے خلاف منعقدہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر کودنڈارام نے ان خیالات کا اظہار کیا ہے۔جنرل سکریٹری اے آئی پی ایس او ناگیشوار رائو اور کے ستیانارائنہ کی نگرانی میںمنعقدہ اس احتجاجی دھرنے سے یاد و ریڈی سابق رکن قانون ساز کونسل‘ عبید اللہ کوتوال چیرمن میناریٹی فینانس کارپوریشن‘ کے سامبا سیو ا رائو رکن اسمبلی سکریٹری سی پی آئی‘ٹی جی نرسمہا رائو‘ پروفیسر کودنڈارام‘ڈاکٹر ڈی سدھاکرکنونیر اے اے پی ٹی ایس ‘ سید ولی اللہ قادری اے آئی وائی ایف‘ ویملا اکا کے علاوہ دیگر نے بھی اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا۔پروفیسر کودنڈارام نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ 1947میں جب اسرائیل کی تشکیل عمل میںآئی تو اسی وقت فلسطین کا بھی قیام عمل میںلانا چاہئے تھا مگر ایسا نہیں کیاگیا اور تب سے لے کر آج تک فلسطینی عوام بے یارومددگار ہے۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے ایک سال سے فلسطینی علاقوں میں بے دریغ بمباری کی جارہی ہے اور اس کے لئے بنیاد حماس کے حملے کو بنایاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یقینا ہم حماس کے اس مبینہ حملے کی ہرگز تائید وحمایت نہیںکرتے مگر اس حملے کا خمیازہ فلسطین کے مظلوم عوام بھگت رہے ہیں کیونکہ اسرائیل اسی مبینہ حملے کو بنیاد بناکر فلسطینی علاقوں کو راکھ کے ڈھیر میںتبدیل کررہا ہے۔ اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی اسرائیلی افواج نشانہ بنارہے ہیں جو قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جنگی ماحول میں شہری علاقوں ‘ اسکولوں او راسپتالوں کو چھوڑ دیاجاتا ہے مگر اسرائیل انہیں بھی نشانہ بنارہا ہے ۔انقلابی گلوکارہ ویملا نے اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت میں تلگو زبان کا ایک اپنا انقلابی گیت بھی سنایا۔