فلسطین کی حمایت میں ایفلو میں مظاہرہ، طلبہ کیخلاف مقدمات درج

   

حیدرآباد۔8۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ پولیس فلسطین کی تائید اور غزہ کی حمایت میں کئے جانے والے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان پر مقدمات درج کرنے لگی ہے اور ایفلو میں گذشتہ شب غزہ کے مظلومین کی تائید میں منعقد کئے جانے والے مظاہرہ کے دوران اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی جانب سے کی گئی ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے کیمپس میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات درج کرلئے ہیں۔ایفلو میں ہوئے احتجاجی مظاہرہ کے دوران اے بی وی پی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس نے احتجاجی مظاہرہ میں شامل طلبہ کو حراست میں لیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں ۔اسٹوڈینٹس یونین اینڈ فیٹرنٹی موومنٹ کی جانب سے ایفلو میں منعقدہ مارچ کے دوران ہوئی ہنگامہ آرائی میں اے بی وی پی طلبہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے کیمپس میں فلسطینی پرچم کی موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے مارچ کر رہے طلبہ پر حملہ کردیا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مارچ منعقد کرنے والے طلبہ کو کیمپس میں مارچ کی اجازت نہیں دی گئی تھی اس کے باوجود مارچ منعقد کیاگیا ۔ایفلو میں ہوئی اس ہنگامہ آرائی کے دوران کی گئی کاروائی کے علاوہ گذشتہ یوم اشوک نگر تا اندرا پارک منعقد کئے گئے مارچ میں بھی پولیس کی جانب سے رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے مارچ کے شرکاء کی بڑی تعداد کو حراست میں لیا گیا اور یہ کہاگیا کہ اس مارچ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔شہر حیدرآباد میں فلسطینی کاز کی حمایت میں منعقد کئے گئے بائیں بازو جماعتوں اور دیگر سماجی تنظیموں کی جانب سے منعقدہ اظہار یکجہتی کے اس مارچ کے دوران پولیس نے مستعدی کامظاہرہ کرتے ہوئے شرکاء کو حراست میں لیا تھا اور اسی دن شام میں ایفلو میں منعقدہ کئے جانے والے فلسطین و غزہ کے مظلومین کے لئے اظہار یکجہتی مارچ میں شریک طلبہ کو حراست میں لینے اور ان پر مقدمات درج کئے جانے پر طلبہ تنظیموں کے علاوہ انسانی حقوق و سماجی جہدکاروں میں شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور استفسار کیا جا رہاہے کہ پولیس آخر کیوں فلسطینی کاز کی حمایت اور غزہ کے مظلومین سے اظہار یکجہتی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان پر مقدمات درج کر رہی ہے۔3