فون ٹیاپنگ معاملہ ‘ہریش راؤ کے سابق پی اے کے بشمول 3 افراد گرفتار

   

غیر قانونی طریقہ سے سم کارڈ حاصل کرنے اور صنعت کار چکرادھر گوڑ کو دھمکیاں دینے کا الزام
حیدرآباد۔ 16 فروری (سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ معاملہ کی تحقیقات میں اس وقت اہم تبدیلی دیکھی گئی جب ریئل اسٹیٹ تاجر چکرادھر گوڑ کے فون ٹیاپنگ معاملہ میں پولیس نے سابق وزیر ہریش راؤ کے پرسنل اسسٹنٹ ومشی کرشنا کے بشمول تین افراد کو گرفتار کرلیا۔ سدی پیٹ اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے ریئل اسٹیٹ تاجر چکرادھر گوڑ نے اسمبلی انتخابات کے موقع پر ہریش راؤ کی جانب سے انہیں ہراساں کرنے اور ٹیلی فون ٹیاپ کرنے کی شکایت کے ساتھ پنجاگٹہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا۔ مقدمہ میں ہریش راؤ اور سابق ڈی سی پی رادھا کرشن راؤ کو بھی ملزم بنایا گیا ہے تاہم ہائی کورٹ نے ان دونوں کو گرفتاری سے راحت دی ہے۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ہریش راؤ کے پی اے ومشی کرشنا نے ایک کسان کے نام پر سم کارڈ حاصل کیا اور سم کارڈ کے ذریعہ چکرادھر گوڑ کو دھمکی آمیز کال کئے گئے۔ جس کسان کے نام پر سم کارڈ حاصل کیا گیا تھا وہ اس سے لاعلم ہے۔ چکرادھر گوڑ نے پنجا گٹہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے ہریش راؤ کو ملزم نمبر ایک اور سابق ڈی سی پی رادھا کشن راؤ کو ملزم 2 بنایا ہے۔ ومشی کرشنا کے علاوہ ٹی سنتوش کمار اور بی پرشاراملو کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔ درخواست گذار نے شکایت کی کہ واٹس ایپ کال کے ذریعہ انہیں دھمکیاں دی گئیں اور ہریش راؤ کی ایما پر سابق ڈی سی پی نے ٹیلی فون ٹیاپ کیا۔ ومشی کرشنا سابق میں کرپشن کے الزامات پر آروگیہ شری ڈپارٹمنٹ سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ جون 2023 میں ان کا دوبارہ تقرر کیا گیا اور انہوں نے ڈسمبر 2023 تک سدی پیٹ میں واقع ہریش راؤ کے کیمپ آفس میں خدمات انجام دیں۔ سنتوش کمار سدی پیٹ میں بھوانی کمینکیشن کا مالک ہے جس نے غیر قانونی طور پر سم کارڈ جاری کیا تھا۔ پرشاراملو اور ومشی کرشنا نے چکرادھر گوڑ کو دھمکی آمیز ٹیلی فون کالس کئے تھے۔ پولیس نے گرفتار شدگان کے قبضہ سے ثبوت اکٹھا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ 1