اقلیتی ، بی سی اور ای بی سی طبقات کے طلبہ پریشان ، محکمہ جات بے بسی کا اظہار
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں بی سی ۔ اقلیتی اور ای بی سی طلبہ کو 3289 کروڑ روپئے کے اسکالر شپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات ہیں تاہم فلاح و بہبود کے محکمہ جات کی جانب سے ان بقایا جات کی ادائیگی کے لیے کوئی دلچسپی نہیں دیکھائی جارہی ہے ۔ جس سے طلبہ پریشان ہیں ۔ طلبہ کے تعلیمی کورس 2 سال قبل مکمل ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کی رقم جاری نہیں کی گئی ۔ ریاست میں سال 2020-21 کے تعلیمی سال کے لیے 889 کروڑ سال 2021-22 کے لیے 2400 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔ ٹیوشن فیس اور اسکالر شپس کے لیے ریاست میں 1250 لاکھ طلبہ درخواستیں داخل کرتے ہیں ۔ ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس وقت پر جاری ہورہی ہے مگر بی سی ۔ اقلیتی اور ای بی سی طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ 1,50,000 لاکھ اقلیتی طلبہ کے لیے 150 کروڑ روپئے بقایا جات ہیں ۔ 7,13,000 بی سی طلبہ کے لیے 620 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔ 75 ہزار ای بی سی طلبہ کے لیے 81 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں اس طرح ان طلبہ کے 3289 کروڑ روپئے کے بقایا جات ہیں ۔ بی سی ۔ اقلیتی اور ای بی سی طلبہ اسکالر شپس اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی عدم اجرائی سے کافی پریشان ہیں ۔ متعلقہ محکمہ جات سے باربار نمائندگی کرنے کے باوجود بقایا جات کی اجرائی کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں اور محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدار فنڈز کی قلت ہونے اور حکومت سے نمائندگی کرنے کا صرف بہانہ کررہے ہیں ۔۔ ن