قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کا وعدہ بھی جملہ ثابت ہوا

   

صرف مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کیا جائیگا ۔ لوک سبھا میں وزیر ریلوے اشونی ویشنو کا جواب

حیدرآباد 8 اگسٹ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں مرکزی حکومت کی جانب سے کوچ فیکٹری قائم نہیں کی جائے گی بلکہ قاضی پیٹ میں صرف مینوفیکچرنگ یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔ تقسیم آندھرا پردیش ایکٹ کے مطابق قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کیلئے مسلسل نمائندگی کی جا رہی تھی اور مرکز سے اس پر کوئی وضاحت کرنے کے بجائے یہ کہا جا تا رہاکہ حکومت کے وعدہ کو پورا کیا جائے گالیکن کل رکن پارلیمنٹ سی۔ایچ کرن کمار ریڈی رکن پارلیمنٹ بھونگیر کے لوک سبھا میں سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر ریلوے مسٹر اشونی ویشنونے کہا کہ وزارت ریلوے نے علاقہ کی ضرورت کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کے بجائے ریلوے مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا۔ اشونی ویشنو نے کہا کہ وزارت سے ریلوے اسٹاک اور ضرورت کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور مستقبل قریب میں ضرورت کے مطابق مینوفیکچرنگ یونٹ کو ترقی دے کر ریلوے کوچ فیکٹری میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ وزیر ریلوے کے جواب کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مرکز سے قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری نہیں بلکہ ریلوے کے مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام کو منظوری دی گئی ۔ مباحث کے دوران بی جے پی رکن رگھونندن راؤ نے تلنگانہ میں حکومت سے منظور ریلوے پراجکٹس پر استفسار کیا اور 32ہزار946کروڑ کی لاگت سے 20 پراجکٹس کی منظوری اور 2298 کیلو میٹر ریلوے راہداری کے احاطہ کے متعلق سوال کئے ۔3