قرآن

   

اور یاد کرو جب فرمایا تمہارے رب نے فرشتوں سے میں مقرر کرنے والا ہوں زمین میں ایک نائب کہنے لگے کیا تو مقرر کرتا زمین میں جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور پاکی بیان کرتے ہیں تیرے لئے فرمایا بےشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (سورۃ البقرہ ۔۳۰)
گزشتہ سے پیوستہ …عارف کامل اسمعیل حقی کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے: انسان مختلف عناصر سے مرکب ہے۔ اس کی صورت کا تعلق عالم محسوس سے ہے اور اس کی روح کا تعلق عالم غیب ملکوتی سے ہے۔ صورت وروح کے علاوہ اس میں ایک پوشیدہ قوت ہے جو انوار ربانی کے فیض کو قبول کرنے کی استعداد رکھتی ہے۔ اچھی تربیت سے وہ عالم محسوس سے ترقی کر کے عالم غیب تک رسائی حاصل کرتا ہے اور رسالتمآب (صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم) کی سچی پیروی سے اس پر عالم جبروت وعظموت کی راہیں کھلتی ہیں ۔ وہ الٰہی نور جو اس اطاعت وپیروی کی برکت سے اسے حاصل ہوتا ہے اس سے وہ جمال وجلال کے انوارو تجلیات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ فَسُبْحَانَ اللّٰهِ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ۔ انسان کو جو صرف خاک کا پتلا سمجھتے ہیں کاش اس کی حقیقت پر غور کریں تاکہ ان میں اپنے بلند مقام پر پہنچنے کی تڑپ پیدا ہو۔ یہ وہ ذرہ ہے جس کے سامنے آسمان کی رفعتیں سرنگوں ہیں اور یہ وہ قطرہ ہے جس میں سمندروں کی گہرائیاں ہیں۔