قرآن

   

اور اللہ نے سکھادیے آدم کو تمام اشیاء کے نام پھر پیش کیا اُنھیں فرشتوں کے سامنے اور فرمایا بتاؤ تو مجھے نام اُن چیزوں کے اگر تم (اپنے اس خیال میں) سچے ہو۔ عرض کرنے لگے ہر عیب سے پاک تو ہی ہے کچھ علم نہیں ہمیں مگر جتنا تونے ہمیں سکھادیابے شک تو ہی علمِ و حکمت والا ہے۔فرمایا اے آدم! بتادو اُنھیں ان چیزوں کے نام پھر جب آدم نے بتادیئے فرشتوں کو اُن کے نام تو اللہ نے فرمایا کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ میں خوب جانتا ہوں سب چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے تھے۔(سورۃ البقرہ ۔۳۱۔۳۳)
حضرت ابن عباس، عکرمہ، قتادہ اور ابن جبیر رضی اللہ عنہم نے اس آیت کی تفسیر یوں بیان فرمائی ہے۔ علمہ اسماء جمیع الاشیاء کلھا جلیلھا وحقیرھا (القرطبی) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چھوٹی بڑی تمام اشیاء کے سب نام سکھا دئیے اور خلافت کے منصب کا تقاضا بھی یہی تھا کہ انہیں ان تمام چیزوں کا علم عطا فرمایا جاتا۔ جب آدم علیہ السلام کے علم کی یہ کیفیت ہے تو سید بنی آدم خلیفۃ اللہ فی العالم محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے علوم ومعارف کا کیا کہنا۔