تہنیتی اجلاس سے اکابرین و ماہرین تعلیم کا خطاب
حیدرآباد۔ 30 مارچ (پریس نوٹ) اردو ادب کی تاریخ میں پہلا فکشن رائٹر کون ہے۔ اردو افسانے کا ارتقاء، حقیقت، ماہیئت تعریف اور تکنیک ان سب باتوں سے قطع نظر قمر جمالی کے فکر و فن پر بات کریں تو اپنے نصف صدی کے تخلیقی سفر کے بعد بھی قلم پر قمر جمالی کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ اب ایسے فنکار شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں رہنے کے باوجود علمی اکتسابات سے جی نہیں چراتے۔ ان مستثنیات میں قمر جمالی بھی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر اشرف رفیع سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ و سرپرست اعلیٰ مرزا غالب اکیڈیمی نے اکیڈیمی کے زیر اہتمام قمر جمالی سے معنون مخصوص ادبی اجلاس میں کیا جو 26 مارچ ہفتہ کی شام سات بجے اردو ہال حمایت نگر میں منعقد ہوا تھا، صدارتی خطاب میں کیا۔ مہمان خصوصی پروفیسر ایس اے شکور سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ و سابق ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے کہا کہ قمر جمالی کو زمینی حقائق کا گہرا شعور و ادراک حاصل ہے ان کے پاس سرمایہ دارانہ نظام، دورن خانہ مسائل، معاشرتی مسائل، نفسیاتی مسائل اور ظلم و جارحیت جیسے موضوعات روش عام سے ہٹ کر ہیں۔ جناب محمد عبد الرحیم خان معتمد انجمن ترقی اردو آندھرا و تلنگانہ نے ماضی قریب و ماضی بعید کے بعض اہم افسانہ نگاروں سے قمر جمالی کا موازنہ پیش کرتے ہوئے انہیں عہد حاضر کی ایک نامور افسانہ نگار ٹھہرایا۔ ناظم اجلاس محبوب خان اصغر نے اکیڈیمی کی کارکردگی پیش کیا ۔ ڈاکٹر بی بی رضا خاتون نے قمر جمالی کے کئی افسانو ںکے اقتباسات پیش کئے ۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین نے کہا کہ قمر جمالی قومی اور بین الاقوامی سطح کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی بحران کے انسانی زندگی پر اثرات کا مشاہدہ باریک بینی سے کرتی ہیں۔ محترمہ قمر جمالی نے اپنے تخلیقی سفر کی روداد نہایت موثر انداز میں پیش کرتے ہوئے تمام مقررین بالخصوص اکیڈیمی کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر محسن جلگانوی کی صدارت میں مشاعرہ منعقد ہوا جس میں صدر مشاعرہ کے علاوہ نجیب احمد نجیب، افتخار عابد، نوید جعفری، شکیل حیدر، نصرت ریحانہ، تجمل تاج، سہیل عظیم، ہنس مکھ حیدرآبادی اور محبوب خان اصغر نے کلام پیش کیا۔